پاکستانی سفارتخانے کا ایرانی انٹرسٹ سیکشن

امریکہ میں ایرانی انٹرسٹ سیکشن اصولی طور پر تو پاکستانی سفارتخانے کا ہی حصہ ہے لیکن ان دو دیرینہ مخالف ملکوں کے درمیان رابطوں کے لیے بنایا گیا یہ سیکشن گزشتہ تیس برسوں میں صرف برائے نام پل ہی کا کام دیتا رہا ہے۔

Image caption ایٹمی سائنسدان شہرام امیری

ایک سال سے ’گمشدہ‘ جن کے بارے میں ایران کا کہنا ہے کہ انہیں اغوا کیا گیا تھا، اچانک واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے ماتحت چلنے والے اسی ایرانی سیکشن میں نمودار ہوئے ہیں۔

یہ ایرانی سیکشن انقلاب ایران کے بعد امریکہ کے ساتھ ایران کے سفارتی تعلقات کے خاتمے کے فوراً بعد وجود میں آیا تھا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک افسر کے مطابق ایرانی انٹرسٹ سیکشن برائے نام پاکستانی سفارتخانے کا حصہ ہے جبکہ عملاً یہ ایک علیحدہ عمارت میں ایرانی عملے کے ذریعے کام کرتا ہے۔ اس سیکشن کا انتظامی کنٹرول بھی ایرانی حکام کے پاس ہی ہے جہاں کوئی پاکستانی باشندہ کام نہیں کرتا۔

چونکہ امریکہ میں اس ایرانی اسٹیبلشمنٹ کو سفارتخانے کا درجہ حاصل نہیں ہے لہذا یہاں کام کرنے والے ایرانی شہری بھی سفارتکار کے درجے سے محروم ہیں۔ اس صورت میں ایران اور امریکہ کے درمیان معول کی خط و کتابت پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے ہوتی ہے۔

سفارتکاری کی روایات اور قوانین کے تحت ایرانی حکومت کو امریکہ کے ساتھ جو بھی رابطہ کرنا ہو اس کے لیے پاکستانی سفارتخانہ کا حصہ سمجھے جانے والے اسی ایرانی سکیشن کو استعمال کیا جانا چاہیے۔

البتہ پاکستان میں سابق امریکی سفیر ریاض کھوکھر کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان اس ایرانی انٹرسٹ سیکشن کو سفارتی تبادلہ خیال کے لیے بھی استعمال نہیں کیا جاتا۔

’مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی پاکستانی سفارتخانے کا حصہ سمجھے جانے والے اس انٹرسٹ سیکشن کوامریکہ یا ایران نے کسی بڑی یا اہم سفارتی پیش رفت کے لیے استعمال کیا ہو۔‘

ریاض کھوکھر کے مطابق ایرانی سیکشن کی عمارت کا کرایہ مانگنے یا ادا کرنے کے علاوہ دونوں ملک کبھی کبھی احتجاجی مراسلوں کے تبادلے کے لیے پاکستانی سفارتخانے کو استعمال کرتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایرانی سائنسدان کا ایرانی سیکشن میں نمودار ہونا غالباً ایران امریکہ تعلقات اور اس میں پاکستانی سفارتخانے کے استعمال کی تاریخ کا اہم ترین واقعہ ہے۔ ایرانی اور امریکی حکومت نہ سہی ایرانی سائنسدان شہرام امیری نے امریکہ ایران تعلقات میں پاکستانی سفارتخانے کے استعمال کو ہی اہمیت دی ہے۔

اسی بارے میں