سو موٹو ایکشن پر پابندی لگي

فائل فوٹو
Image caption پشاور ہائی کورٹ کے ججز حلف اٹھاتے ہوئے

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اعجاز افضل اللہ خان نے ہائی کورٹ کے ججوں کو ازخود یا سوموٹو نوٹس لینے پر پابندی لگادی ہے۔ چیف جسٹس نے کسی بھی مسئلے میں ازخود نوٹس لینے سے قبل ان سے باضابطہ اجازت کو لازم قرار دیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے رجسٹرار سید مصدق حسین گیلانی نے منگل کو بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یہ حکم نامہ گزشتہ روز جاری کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے پشاور ہائی کورٹ کے تمام ججوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ کسی بھی مسئلے میں سو موٹو نوٹس لینے سے قبل ان سے باضابط اجازت لیں۔

انہوں نےمزید کہا کہ جن کیسسز میں ازخود نوٹس لیا جاتا ہے ان کی منظوری پہلے چیف جسٹس دیں گے جبکہ ان کی منظوری کے بغیر کسی بھی کیس میں سو موٹو ایکشن نہیں لیا جاسکتا۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا تعلق ضلع مانسہرہ سے بتایا جاتا ہے۔ سولہ مارچ کے لانگ مارچ کے نتیجے میں جب ججوں کو بحال کیا گیا تو پشاور کے تین ججوں نے فاروق اے نائیک کے فارمولے کے تحت حلف اٹھا لیا تھا جبکہ اعجاز افضل خان نے حلف لینے سے انکار کیا تھا۔ وہ پشاور ہائی کورٹ میں سب سے آخر میں بحال ہوئے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں عدالت عالیہ کے کسی چیف جسٹس نے پہلی مرتبہ ججوں پر اس قسم کی پابندی لگائی ہے۔ اس سے پہلے ملک کے سیاستدان سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں پر دبے الفاظ میں تنقید کرتے رہتے ہیں کہ جج صاحبان مختلف معاملوں کے ازخود نوٹس لے کر اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں