پنجاب اسمبلی: میڈیا کے حق میں قرارداد

پنجاب اسمبلی
Image caption پنجاب اسمبلی نے جعمہ کے روز متفقہ طور پر ملکی میڈیا کے خلاف قرار داد منظور کی تھی جس کے بعد صحافیوں نے اسمبلی کوریج کا بائکاٹ کیا

پنجاب اسمبلی نے ملکی میڈیا کے مخالف قرار داد کے تین دن بعد اب میڈیا کے حق میں ایک نئی قرار داد منظور کی ہے اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان کا کہنا ہے کہ اس نئی قرار داد کی منظوری کے بعد میڈیا مخالف قرار داد کالعدم تصور ہوگی۔

دوسری جانب صحافی تنظیموں کا اجلاس چودہ جولائی کو لاہور پریس کلب میں طلب کرلیا گیا ہے جس میں پنجاب اسمبلی کی میڈیا کے حق میں منظور کی جانے والی قرار داد کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

پنجاب اسمبلی نے جعمہ کے روز متفقہ طور پر ملکی میڈیا کے خلاف قرار داد منظور کی تھی جس کے بعد صحافی تنظیموں نے ملک گیر سطح پر اس قرار داد کے خلاف یوم سیاہ منایا۔ صحافیوں نے مسلسل دو روز صوبائی اسمبلی کی کوریج کا بائیکاٹ کررکھا ہے۔

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ صوبائی اسمبلی نے میڈیا کے حق میں ایک نئی قرار داد منظور کی ہے اور بقول ان کے جب یہ قرار داد منظور کی گئی اس وقت کورم پورا تھا اور ایوان میں ایک سو پانچ ارکان صوبائی اسمبلی موجود تھے۔

صوبائی وزیر قانون کے مطابق میڈیا مخالف قرار داد اٹھارہ ارکان اسمبلی نے تیار کی تھی اور اس کی تیاری میں مسلم لیگ نون یا وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ میڈیا مخالف قرار داد بھکر سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ نون کے رکن پنجاب اسمبلی نثاء اللہ مستی خیل نے پیش کیا تھا اور اس قرار داد کو ایوان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین نے متفقہ طور پر منظور کرلیا تھا۔ تاہم قرارداد کی منظوری کے بعد جب صحافیوں نے احتجاج کیا تو تمام سیاسی جماعتوں نے اس قرارداد کے بارے میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ ان کی جماعت کی پالیسی نہیں ہے۔

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے صحافیوں کو بتایا کہ میڈیا کے حق میں جو قرار داد منگل کو منظور کی گئی ہے اس کی منظوری سے قبل ان اٹھارہ ارکان اسمبلی کو بھی اعتماد میں لیا گیا جنہوں نے میڈیا کے بارے میں پہلی قرار داد تیار کی تھی۔

انہوں نے مسلم لیگ قاف پر الزام لگایا کہ میڈیا کے حق میں پیش کی جانے والی قرار داد کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان کے ایک رکن اسمبلی ( عامرسلطان چیمہ) نےسپیکر کے ڈیسک پر جاکر ان سے فائل بھی چھیننے کی کوشش کی۔

رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ وہ یہ ذمہ داری قبول کرتے ہیں کہ جو قرار داد میڈیا کے بارے میں پہلے پیش کی گئی اس کو انہوں نے اس کا جائزہ لینے کے بعد قرار داد کو تیار کرنے والے سے کہا کہ وہ اگر قرار داد میں کچھ حصہ نکال دیں تو وہ اس قرار داد کی مخالفت نہیں کریں گے۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ پہلی قرار داد کا مسودہ مختلف نوعیت کی پابندی کا تذکرہ تھا جس پر قرار داد تیار کرنےوالوں کو کہہ دیاگیا کہ وہ اس حصہ کو قرار داد سےنکال دیں کیونکہ ایسا نہیں کیا جاسکتا۔

صوبائی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ پہلی قرارداد میں بھی مشترکہ کمیٹی بنانے کا تذکرہ تھا اور جو نئی قرارداد منظور کی گئی ہے اس میں بھی مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کا ذکر شامل ہے ۔ان کے بقول ’واقعی ایک مشترکہ کمیٹی کی ضرورت ہے کیونکہ گلا آپ کو بھی گلا ہمیں بھی ہے اسی صورت حال میں مشترکہ کمیٹی کی ضرورت ہےْ۔‘

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ قرار داد حکومت کو پابند نہیں کرتی بلکہ اس کی حیثیت سفارشات جیسی ہوتی ہیں۔

ادھر سپیکر پنجاب اسمبلی نے ایوان کے اندر ان کے ڈیسک کے سامنے احتجاج کرنے اور ان سےفائل چھننے کی کوشش کرنے کی پاداش میں رکن اسمبلی عامر سلطان چیمہ کی کچھ روز کے لیے اسمبلی میں داخلہ پر پابندی لگادی ہے جبکہ عامر سلطان چیمہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے نکتہ اعتراض پر کورم کی نشاندہی کی تھی لیکن ان کی بات پر توجہ نہیں دی گئی حالانکہ جب کورم کی نشاندہی کی جائے تو پہلے اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ آیا کورم پورا ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں