’آمروں کو تحفظ، صرف عدالت عظمی ذمہ دار نہیں‘

سپریم کورٹ( پاکستان)
Image caption جسٹس خلیل الرحمن رمدنے نے کہا کہ سابق ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کا نام لیے بغیر کہا کہ عدالت نے تو اُنہیں صرف تین سال کے لیے حکمرانی کرنے کی مہلت دی تھی۔

پاکستان کے سپریم کورٹ میں اٹھارویں تر میم کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا ہے کہ آمروں کو تحفظ دینے کے حوالے سے صرف سپریم کورٹ کو مورودالزام ٹھرانا درست نہیں ہے۔

انہوں نے سابق ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کا نام لیے بغیر کہا کہ عدالت نے تو اُنہیں صرف تین سال کے لیے حکمرانی کرنے کی مہلت دی تھی جبکہ پارلیمنٹ نے سترہویں ترمیم منظور کرکے مارشل لاء کو جائز قرار دیا تھا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ نے اٹھارویں ترمیم کی شقوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

عبدالحفیظ پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ اسمبلی آئین ساز اسمبلی نہیں ہے اور اس کو آئین کے بنیادی خدوخال میں ترمیم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کو بھی جائز قرار دیا ایا تھا جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ قرار سابق اسمبلی نے منظور ضرور کی تھی لیکن سابق صدر کے ان اقدامات کی موجودہ پارلیمنٹ نے توثیق نہیں کی تھی۔

عبدالحفیظ پیرزادہ کا کہنا تھا کہ آئین میں ترامیم کے لیے موجودہ پارلیمنٹ کو دوبارہ عوام کے پاس جانا ہوگا اور نیا مینڈیٹ لیکر آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں جتنی بھی ترامیم کی جائیں لیکن اُس کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے کا کہنا تھا کہ ائین کے آرٹیکل چھ میں کسی بھی آمر کے اقدام کو جائز قرار دینے پر ججوں پر بھی غداری کا مقدمہ درج کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے جبکہ سیاست دانوں اور دیگر افراد کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر عدالت عظمی نے نصرت بھٹو کیس کا فیصلہ غلط کیا تھا تو پارلیمنٹ نے اس معاملے کو کیوں نہیں اُٹھایا جبکہ آمروں کے اقدامات کو ائین کی آٹھویں اور سترہویں ترامیم میں دیا گیا۔

یاد رہے کہ نصرت بھٹو کیس میں سپریم کورٹ نے سابق ملٹر ی ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو ختم کرکے اقتدار میں آنے کے اقدام کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا تھا۔

خلیل الرحمن رمدے نے عبدالحفیظ پیزادہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بینچ کو آمروں کے اقدمات اور اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کے کردار سے متعلق بھی آگاہ کریں۔

اس سے قبل الجہاد ٹرسٹ کے وکیل وہاب الخیری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں بہت سی ایسی ترامیم کی گئی ہیں غیر اسلامی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل سے متعلق جو ترمیم کی گئی ہیں اُن سے ملک میں انتخابات کبھی شفاف نہیں ہوں گے بینچ میں موجود جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے ملک میں کونسے انتخابات شفاف ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں انٹرا الیکشن کو ختم کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے اور ایسے میں آصف علی زرداری اور بلال بھٹو ہمیشہ اپنی پارٹی کے سربراہ رہیں گے۔ ان درخواستوں کی سماعت بدھ کے روز بھی جاری رہے گی جس میں عبدالحفیظ پیرزادہ اپنے دلائل دیں گے۔ سماعت کے دوران اٹھارویں ترمیم کے حق میں بھی درخواستیں دائر کی گئیں جس پر عدالت نے سیکرٹری قانون اور جنرل کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

اسی بارے میں