پنجاب، سندھ پانی تنازعہ طے پا گیا

Image caption وزیر اعظم نے سندھ کابینہ کو یقین دلایا ہے کہ مالیاتی ایوارڈ کی طرح پانی کی تسقیم کا تنازعہ بھی اتفاق رائے سے حل کیا جائےگا

پنجاب اور سندھ کے درمیاں نہری پانی کی تقسیم کا تنازعہ طے پاگیا ہے اور فریقین نے اتفاق رائے سے چشمہ جہلم لنک کینال فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ منگل کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ’انڈس رور سسٹم اتھارٹی‘ یعنی ارسا کا چودہ جولائی کو اجلاس بلا کر صوبوں کو ضرورت کے مطابق پانی کی فراہمی کا جائزہ لیا جائے۔

بی بی سی ارود ڈاٹ کام کے اسلام آباد میں نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق اجلاس میں پنجاب اور سندھ کے وزراء اعلیٰ کے علاوہ پانی و بجلی کی وفاقی اور صوبائی وزارتوں کے حکام بھی شریک ہوئے۔

وزیراعظم کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی نے دونوں صوبوں کے وزراء اعلیٰ کی جانب سے پانی کا معاملہ افہام و تفہیم اور تیزی سے حل کرنے پر ان کی تعریف کی۔

بیان کے مطابق چھ جولائی کو’انڈس رور سسٹم اتھارٹی‘ کے فیصلے پر سندھ کے اعتراضات کے بعد وہ فیصلہ اتفاق رائے سے فوری طور پر واپس لیا جاتا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق چاروں صوبوں اور وفاق کے پانچ اراکین پر مشتمل ارسا میں سے صرف پنجاب کے اکیلے رکن جو ارسا کے قائم مقام چیئرمین بھی ہیں انہوں نے یکطرفہ طور پر چشمہ جہلم لنک کینال کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔

جس پر احتجاج کرتے ہوئے وفاق اور صوبہ سندھ کے ممبران نے استعفے دیے تھے لیکن حکام کا کہنا ہے معاملہ افہام تفہیم سے طے ہونے کے بعد انہوں نے اپنے استعفے واپس لے لیے ہیں۔

چشمہ جہلم لنک کینال کے ذریعے دریائے سندھ سے نہری پانی دریائے جہلم میں ڈالا جاتا ہے۔ جبکہ اس نہر کے ذریعے چشمہ جوہری بجلی گھر کے لیے بھی پانی فراہم ہوتا ہے۔

سندھ کا موقف ہے کہ ارسا ایکٹ کے مطابق چشمہ جہلم لنک کینال ایک سیلابی نہر ہے اور سیلاب یا سندھ کی پیشگی منظوری کے بنا نہیں کھولی جاسکتی۔ جبکہ پنجاب کا موقف ہے کہ دریائے سندھ سے پنجاب اپنے حصے کا پانی لینے کے لیے اُسے کبھی بھی کھول سکتا ہے۔

پاکستان میں نہری پانی کی تقسیم کے مجاز ادارے ارسا کے پانچ اراکین میں سے ہر ایک، باری باری چیئرمین بنتا ہے۔ اس وقت چیئرمین کی باری صوبہ خیبر پختونخواہ کی ہے لیکن ان کے رکن ذاتی مصروفیات کی بنا پر مستعفی ہوچکے ہیں۔ جس کی وجہ سے پنجاب کے رکن کو قائم مقام چیئرمن بنایا گیا ہے۔

حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ نے اپنے نئے رکن کے طور پر رقیب خان کا نام دیا ہے اور وزیراعظم نے ان کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جیسے ہی ان کا نوٹیفکیشن جاری ہوگا تو وہ ارسا کے چیئرمین بن جائیں گے اور چودہ جولائی کے اجلاس کی صدارت وہی کریں گے۔

واضح رہے کہ سندھ اور پنجاب میں نہری پانی کی تقسیم پر اختلافات کی تاریخ سوا صدی پر محیط ہے اور فریقین میں تحریری معاہدے ہونے کے باوجود بھی بھروسے کا بڑا فقدان پایا جاتا ہے اور وقت بوقت ان کے درمیاں تنازعہ پیدا ہوتا رہتا ہے۔

اسی بارے میں