’ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں‘

Image caption ’نواز شریف پہلے جی ایچ کیو کے پیچھ چھپ کر سیاست کرتے تھے اور اب عدلیہ کے پیچھے چھپ کر سیاست کی کوشش کر رہے ہیں: بابر اعوان

ا وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے کہا ہے کہ قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) سمیت سپریم کورٹ کے تمام فیصلوں پر حکومت عمل کرچکی ہے لیکن پاکستان کی سلامتی کے معاملے پر وہ کچھ نہیں کرسکتے۔

بی بی سی اردو سروس کے ساتھ انٹرویو میں جب ان سے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد سے متعلق پوچھاگیا تو انہوں نے کہا کہ ’این آر او کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر حکومت ننانوے فیصد عمل کرچکی ہے، بائیس گریڈ کے افسران کی ترقی واپس کرنے اور گیس کے ٹھیکوں سمیت تمام فیصلوں پر عمل کرچکے ہیں لیکن جہاں پاکستان کی خودمختاری پر سمجھوتے یا سرینڈر کرنے کا سوال آئے گا، اس کے لیے ہم تیار نہیں ہوں گے‘۔

وفاقی وزیر بابر اعوان سے انٹرویو

بابر اعوان نے جعلی ڈگری والے اراکین پارلیمان کو دوبارہ ٹکٹ دینے کی بھی حمایت کی اور کہا کہ اب تعلیمی سند کی شرط کا قانون ختم ہوچکا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا اخلاقیات کا تقاضا یہ بھی ہے کہ کروڑوں اور اربوں روپوں کا ٹیکس دیا جائے۔

’اخلاقیات کی بات یہ بھی ہے کہ لوگ آمریت کے زمانے میں معافیاں مانگتے ہیں اور بھاگ جاتے ہیں اور جب جمہوریت آتی ہے تو واپس آکر اخلاقیات کی بات چھڑتے ہیں ۔۔ اخلاقی اقدار کی بات اپنی جگہ لیکن اصل معاملہ قانونی حیثیت کا ہے‘۔

بابر اعوان نے کہا کہ اراکین پارلیمان کے لیے گریجوئیشن کی شرط ایک آمر (فوجی صدر پرویز مشرف) نے لگائی اور یہ معاملات عدالتوں میں پڑے رہے۔ لیکن ان کے بقول جب یہ قانون ختم ہوگیا تو اب آمروں کی باقیات نے جعلی ڈگری کا معاملہ اٹھا کر پارلیمان کو بے وقعت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وسطی مدت کے انتخاب کی بات کرتے ہیں۔

Image caption انھیں کرنے دیں: بابر اعوان

جب ان سے پوچھا کہ ان کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری جعلی ہونے کی بھی خبریں شائع ہو رہی ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے رہے کہ بینظیر بھٹو گریجوئیٹ نہیں ہیں، صدرِ پاکستان کم پڑھے لکھے ہیں اور اب وہ ایک ہی گروہ مجھے ان پڑھ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے اور میڈیا ٹرائل پہلے بھی ہوا اور اب بھی ہورہا ہے۔ انہیں کرنے دیں‘۔

وزیر قانون بابر اعوان نے وکلا تنظیموں کو حکومت کی جانب سے رقوم کی فراہمی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی قانونی ذمہ داری ہے جو وہ پوری کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے تنقید کرنے پر میاں نواز شریف کے متعلق انہوں نے کہا کہ ’نواز شریف پہلے جی ایچ کیو کے پیچھ چھپ کر سیاست کرتے تھے اور اب عدلیہ کے پیچھے چھپ کر سیاست کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا یہ کردار عوام کے سامنے عیاں ہوا تو انہیں تکلیف تو ہوگی‘۔

ججوں کی بھرتی اٹھارویں آئین ترمیم کے مطابق وضع کردہ پروگرام کے تحت کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہی ہے اور اس کی روشنی میں اقدامات کرے گی۔

اسی بارے میں