آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 جولائ 2010 ,‭ 07:07 GMT 12:07 PST

بی این پی رہنما ہلاک، کوئٹہ میں احتجاج

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

بلوچستان نیشنل پارٹی( مینگل گروپ) کے مرکزی سکریٹری جنرل اور سابق سینیٹر حبیب جالب ایڈووکیٹ کو کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ نے صوبے میں تین دن کی شٹر ڈاؤن ہڑتال اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔ بلوچستان حکومت نے کوئٹہ میں تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند کر دیے ہیں۔

کلِک حبیب جالب کی ہلاکت پر احتجاج

کلِک حبیب جالب قتل: ’ریاستی ادارے ملوث ہیں‘

کلِک بلوچستان: کون کس کے پیچھے ہے

سکیورٹی اہلکاروں نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے پیش نظر علاقے میں گشت شروع کر دیا ہے۔

بدھ کی شام پولیس نے حبیب جالب بلوچ کے قاتل کا خاکہ جاری کیا اور گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے دس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا۔

بدھ کی شام کوئٹہ میں پولیس نے حبیب جالب بلوچ کے قتل میں ملوث ایک شخص کا خاکہ جاری کیا اور قاتل کی گرفتاری میں مدد پر حکومتِ بلوچستان نے دس لاکھ روپے انعام کا اعلان کی ہے۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب اسلم ریئسانی نے واقعے کی تحقیقات کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔

بدھ کی شام کوئٹہ میں پولیس نے حبیب جالب بلوچ کے قتل میں ملوث ایک شخص کا خاکہ جاری کیا اور قاتل کی گرفتاری میں مدد پر حکومتِ بلوچستان نے دس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا۔

سابق سینیٹر حبیب جالب ایڈووکیٹ

سابق سینیٹر حبیب جالب ایڈووکیٹ نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا

بدھ کی صبح کوئٹہ کی سریاب روڑ پر بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل گروپ) کے نمایاں رہنما حبیب جالب اپنے بھائی کی دکان پر اخبار پڑھ رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے انھیں ہلاک کر دیا۔

نامعلوم مسلح حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں یہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسرا سیاسی قتل ہے۔ اس سے پہلے گیارہ جولائی کو نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق ضلع ناظم مولا بخش دشتی کو کو نامعلوم افراد نے تربت میں قتل کردیا تھا۔

سابق سینیٹر حبیب جالب کی میت کو کوئٹہ کے سول ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ ان کی ہلاکت کی اطلاع ملتے ہی ہسپتال کے باہر وکلاء اور سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہو گئی اور احتجاجی مظاہرہ شروع کر دیے۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے سڑک پر ٹائر جلا کر احتجاج کیا۔ فرنٹئیر کور اور پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی ہے جبکہ علاقے کی دکانیں بند ہو گئی ہیں۔

بعد میں مظاہرین نے حبیب جالب کی میت گورنر ہاوس لے جانےکی کوشش کی لیکن پولیس نے مظاہرین کو گورنر ہاوس نہیں جانے دیا۔ اس دوران مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا۔ مظاہرین نے گورنر ہاوس کے سامنے احتجاج کی اجازت نہ ملنے پر توڑ پھوڑ بھی کی۔

حملہ آوروں کی تلاش کے لیے پولیس کے ٹیمیں تشکیل دے کر علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

قاضی واحد ایس پی، کوئٹہ

صوبے میں خضدار، نوشکی، قلات اور پنجگور سمیت دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

کوئٹہ کے ایس پی قاضی واحد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے پولیس کے ٹیمیں تشکیل دے کر علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

بلوچ رہنما حبیب جالب نے زمانہ طالب علمی میں بلوچ طلبا تنظیم بی ایس او میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم جنرل ضیاالحق کے مارشل لاء میں وہ روس چلے گئے تھے۔

وہاں سے واپسی کے بعد بلوچستان نشینل پارٹی میں شامل ہو گئے تھے اور سنہ انیس سو چھیانوے میں سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔