بلوچستان میں سیاسی ہلاکتیں: ٹائم لائن

فائل فوٹو
Image caption حبیب جالب بدھ چودہ جولائی کو کوئٹہ کی سریاب روڑ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے

یوں تو صوبہ بلوچستان میں گزشتہ چند برسوں میں اہم سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ سکیورٹی فورسز، اساتذہ اور اقلیتوں کے بےشمار لوگ مارے گئے ہیں لیکن سیاسی شخصیات کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

دو ہزار دس

چودہ جولائی دو ہزار دس، سینیٹر حبیب جالب

بلوچستان نیشنل پارٹی( مینگل گروپ) کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور سابق سینیٹر حبیب جالب ایڈووکیٹ کو کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

گیارہ جولائی، مولابخش دشتی

Image caption غلام محمد بلوچ، شیر محمد بلوچ، لالا منیر بلوچ

نیشنل پارٹی کے رہنما اور ضلع تربت کے سابق ناظم کو گاڑی میں سفر کے دوران گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

نو جولائی، بشیر بگٹی، قاسم بگٹی

نامعلوم افراد نے گھات لگا کر ان کی گاڑی پر حملہ کیا اور انہیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

ستائیس جون، فیض الدین ساسولی

پیپلز پارٹی کے رہنما فیض الدین ساسولی کو خصدار میں نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

دو ہزار نو

آٹھ اپریل، غلام محمد بلوچ، شیر محمد بلوچ، لالا منیر بلوچ

بلوچستان نیشنل موومنٹ اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کے ان تینوں رہنماوں کے اغوا کے چند روز بعد لاشیں تربت سے ملیں تھیں۔

انتیس نومبر دو ہزار آٹھ، منحرف بگٹی کمانڈر قتل

Image caption نوابزادہ بالاچ مری

بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں پولیس کو ایک سر کٹی لاش ملی ہے جس کے بارے میں کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ نواب اکبر بگٹی کے ایک منحرف کمانڈر عزیز کی لاش تھی۔

اکیس نومبر دو ہزار سات، میر بالاچ مری

نوابزادہ بالاچ مری ایک کارروائی میں ہلاک ہوگئے جس کے بعد بلوچستان کے بیشتر شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ اطلاعات کے مطابق بالاچ مری پاک افغان سرحد کے قریب بلوچستان کے علاقہ نوشکی کے قریب سر لچ کے مقام پر سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک ہوئے۔

نواب اکبر بگٹی اپنے محافظوں کے ساتھ چھبیس اگست دو ہزار چھ، نواب اکبر خان بگٹی

بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی ایک فوجی آپریشن میں ہلاک ہوئے۔ اس آپریشن میں چودہ سکیورٹی اہلکار اور نواب اکبر بگٹی کے کچھ ساتھی بھی ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں