نفیس، حلیم، بے داغ اور پختہ کردار

بلوچ رہنما حبیب جالب
Image caption جنرل ضیاالحق کے مارشل لا میں وہ روس چلے گئے تھے۔

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بدھ کو ایک اور اہم سیاسی رہنما جبیب جالب بلوچ کو ’نامعلوم حملہ آوروں‘ نے گولیاں مار کر قتل کر دیا ہے اور گزشتہ تین دن کے دوران قتل ہونے والے وہ دوسرے قوم پرست سیاسی رہنما ہیں۔

حبیب جالب بلوچ کو نفیس، حلیم طبع، پختہ کردار کا مالک اور بے داغ کردار رکھنے والے گنتی کے سیاستدانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

مارچ انیس سو ستانوے میں پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کے رکن منتخب ہونے والے قلندر اور درویش شخصیت کے مالک جالب بلوچ نے اپنی سیاست کا آغاز بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائیزینش ’بی ایس او‘ سے کیا اور بعد میں اس تنظیم کے سربراہ بھی منتخب ہوئے۔

جالب بلوچ کا پڑھنے پڑھانے سے کافی لگاؤ رہا اور انہوں نے ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کی اسناد تو پاکستان سے حاصل کیں لیکن اعلیٰ تعلیم کے لیے ماسکو بھی گئے۔ ان کے گھر میں کھانا ملے نا ملے لیکن کتابوں کی بڑی تعداد ضرور ملے گی۔

جنرل ضیاالحق کے مارشل لا میں وہ روس چلے گئے تھے۔ وہاں سے واپسی کے بعد بلوچستان نشینل پارٹی میں شامل ہو گئے تھے اور سنہ انیس سو ستانوے میں سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔

ان کے قریبی ساتھی اور سابق رکن قومی اسمبلی رؤف مینگل کے مطابق جالب نے ماسکو سے پولیٹیکل سائنس میں ڈاکٹریٹ کی لیکن ان کی اس سند کو پاکستان میں ’پی ایچ ڈی‘ کے برابر تسلیم نہیں کیا گیا۔

عالمی سیاست، تاریخ اور دیگر موضوعات پر جالب کا مطالعہ کافی تھا اور وہ اپنی طالبعلمی کے زمانے میں ’سٹڈی سرکل‘ بھی چلاتے رہے۔ ان کے بعض ساتھیوں کا کہنا ہے کہ پارلیمان کا ایوان بالا سینیٹ ہو یا سیاسی جلسے جلوس، وہ لمبی تقریریں کیا کرتے تھے۔

سیاست سے وہ عشق کرتے تھے اور اسے عبادت سمجھتے تھے۔ اپنی اس محبوبہ (سیاست) کی خاطر انہیں اپنی زندگی کے پچاس برس سے زیادہ عرصے تک شادی کا خیال تک نہیں آیا۔ لیکن دوست احباب اور رشتہ داروں کے اسرار پر عمر کے آخری حصے میں انہوں نے شادی کی اور ان کے دو بچے ہوئے۔ تقریباً اٹھاون سال کی عمر والے جالب بلوچ کا بڑا بیٹا چوتھی جماعت کا طالبعلم ہے۔

پیرکانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کے اس حبیب سے ملنے کے بعد بہت سارے لوگوں کو یقین نہیں آتا تھا کہ وہ اتنے عمر رسیدہ تھے۔

ان کے بہت سارے ساتھی اپنے سیاسی سفر میں تھک ہار کر مختلف کاروبار ہائے زندگی اختیار کر چکے لیکن جالب نے مرتے دم تک سیاست سے منہ نہیں موڑا۔

اسی بارے میں