حبیب جالب قتل:’ ریاستی ادارے ملوث ہیں‘

فائل فوٹو
Image caption سابق بلوچ وزیر اعلیٰ سردار عطا اللہ مینگل جو عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرچکے ہیں

ملک کے بزرگ سیاستدان اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے بانی رہنما سردار عطااللہ مینگل کا کہنا ہے کہ سابق سینیٹر حبیب جالب کے قتل میں کوئی بھی علیحدگی پسندگروپ ملوث نہیں ہے بلکہ یہ ریاستی اداروں کا کام ہے۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’ اس واقعے کے ذمہ دار حکومت پاکستان کے محافظ ہیں جنہیں ایجنسیاں بھی کہا جاتا ہے۔‘

’ہمارے لوگوں کو ایک ایک کرکے مار رہے ہیں، وہ اپنی طرف سے بڑی کوشش کر رہے ہیں کہ سب کو دھکا دیکر اس مقام پر لے جائیں جہاں سے واپسی ناممکن ہو مگر ہمارے پاؤں اس طرف نہیں اٹھتے اس کی وجہ ہمارے اپنے مفادات ہیں ہم ان پر احسان نہیں کر رہے۔ ان قدموں کو ہم کب تک روکیں گے پتہ نہیں۔‘

سینئر بلوچ قوم پرست رہنما کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے ’اس ملک کے وزراء اعظموں کو نہیں چھوڑا، اکبر بگٹی کو نہیں بخشا، تو حبیب جالب اور وہ تو ویسے ہی عام آدمی ہیں۔‘

متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے حبیب جالب ایڈووکیٹ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت اچھے دوست اور ذمہ دار کارکن تھے۔’انہوں نے ایک اچھا خاصہ خلاء چھوڑا ہے خدا کرے کوئی اسے پر کرسکے۔‘

ایک سوال کے جواب میں سردار عطااللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاست میں اگر کوئی سرگرم ہے تو وہ متوسط طبقہ ہے، باقی نچلے طبقے کو تو روٹی کی تگ و دو سے فرصت نہیں ہے۔ ’مڈل کلاس کو اس کا سہارا ضرور حاصل ہے۔ ایجنسیاں اس لیے خائف ہوتی ہیں کہ یہ لوگ ان کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں اس لیے انہیں چن چن کر مارا جاتا ہے۔‘

گزشتہ دنوں وزیراعظم یوسف رضاگیلانی اور پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شھباز شریف نے سردار عطااللہ مینگل سے ملاقات کی تھی۔ سردار عطااللہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ہو یا وزیراعلیٰ بےبس ہیں اور اصل حکمران تو فوج ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ لیاقت علی خان کے قتل سے لیکر آج تک حکمرانی فوج کے پاس رہی ہے۔‘

’ بھٹو کو تھوڑا وقت ملا تھا وہ بھی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجہ سے پھر آپ نے دیکھا کہ کس طرح انہوں نے بھٹو سے اقتدار چھینا اور آج تک ان کے پاس ہے۔‘

سابق بلوچ وزیر اعلیٰ سردار عطا اللہ مینگل جو عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرچکے ہیں کا کہنا ہے کہ آج کل باہر کی دنیا جب تک نہ چاہے ملک نہیں ٹوٹتے اور نہ بنتے ہیں۔ ’ورنہ فوج نے اپنی طرف سے کافی کوششیں کی ہیں کہ اس ملک کو توڑیں۔‘

اس بیان میں کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں