کراچی: نرس سے مبینہ جنسی زیادتی کی کوشش

فائل فوٹو
Image caption پاکستان میں خواتین پر تشدد کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں

صوبہ سندھ کے وزیرصحت نے کہا ہے کہ جناح ہسپتال کراچی کی نرس کے ساتھ مبینہ زیادتی کی کوشش کرنے والے ڈاکٹر کو ڈاکٹری کے پیشے سے الگ ہو جانا چاہیے۔

صوبائی وزیر صحت صغیر احمد نے کہا کہ ان کے ادارے کی جانب سے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جو آئندہ چوبیس گھنٹوں میں رپورٹ پیش کردے گی۔

کراچی پولیس کا کہنا ہے جناح ہسپتال کے ڈاکٹرز فلیٹ کی پہلی منزل میں سے ایک نرس طالب علم نے منگل کی شام چھلانگ لگائی تھی اور زخمی ہونے کے بعد بیہوش ہوگئی تھیں۔

بعد میں فلیٹ کے مکین ڈاکٹر جبار میمن کو پولیس نے اقدام قتل کیس میں گرفتار کر لیا تھا۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار نثار کھوکھر کا کہنا ہے کہ نرسنگ عملے نے ڈاکٹر پر بائیس سالہ نرس سے زیادتی کا الزام لگایا ہے مگر تاحال پولیس اور میڈیکل رپورٹ نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جناح ہسپتال کے نرسنگ سکول کی بائیس سالہ طالبہ مغلین اشرف نے ڈاکٹر جبار میمن کے رہائشی فلیٹ سے چھلانگ لگائی ہے۔

صدر پولیس کے ایک افسر شہباز خان کا کہنا ہے کہ انہیں فلیٹ سے ٹوٹے ہوئے شیشے ملے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نرس نے چھلانگ لگانے سے قبل مزاحمت کی ہے۔پولیس نے پی پی سی کی دفعہ دو سو چونتیس کے تحت مقدہ درج کرنے کے بعد ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا ہے۔

پاکستان نرسنگ ایسوسی ایشن کی اپیل پر بدھ کو جناح ہسپتال میں نرسوں نے مظاہر کیا اور کام بند رکھا۔

نرسنگ ایسوسی ایشن کے صدر اقبال احمد کے مطابق انہوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ ڈاکٹر کو سخت سزا دی جائے۔

دوسری جانب صوبائی وزیر صحت صغیر احمد نے میڈیا کو بتایا ہے کہ انہوں نے سپیشل سیکریٹری صحت ڈاکٹر ماجد کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو آئندہ چوبیس گھنٹوں میں اپنی رپورٹ پیش کردے گی۔

اسی بارے میں