دورے کے ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے: کرشنا

فائل فوٹو
Image caption ممبئی حملوں کے بعد بھارت کے وزیر خارجہ دوسرے اعلیٰ اہلکار ہیں جو پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں

بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اعلیٰ حکومتی اہلکاروں سے ملاقات کریں گے۔

بدھ کو اسلام آباد پہنچنے پر بھارتی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کے دورے کے ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے۔

وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وہ پاکستان امن اور دوستی کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بھارت ایک خوشحال اور مستحکم پاکستان دیکھنا چاہتا ہے۔‘

کسی بھارتی وزیرِ خارجہ کا ممبئی حلموں کے بعد یہ پہلا پاکستان کا دورہ ہے۔ گزشتہ ماہ جون میں بھارتی وزیر داخلہ پی چدامبرم جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کے وزرائے داخلہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آئے تھے۔

ایس ایم کرشنا جمعرات کو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کریں گے اور اس کے بعد دوپہر میں ان کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرس سے خطاب کریں گے۔

دونوں رہنماوں کے درمیان یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔

پاک بھارت تعلقات اتار چڑھاؤ کی تفصیل

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ کے درمیان ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں ممالک نے اعتماد کی بحالی اور تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے بات چیت کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ نے مشترکہ نیوز کانفرس سے خطاب میں کہا تھا کہ پندرہ جولائی کو ہونے والی وزراء خارجہ کی ملاقات میں تمام مسائل پر کھل کر بات ہوگی۔

بھارتی وزیر خارجہ اپنے دورے کے دوران صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن، ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماوں سے ملاقات بھی کریں گے۔

منگل کو پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ دورے میں اب کی بار بھی کسی بڑے ’بریک تھرو‘ کی توقع نہیں ہے۔

دونوں ممالک میں ممبئی حملوں کے بعد بات چیت کا سلسلہ معطل ہوگیا تھا۔ بعد میں عالمی برادری کی کوششوں سے بات چیت تو بحال ہوگئی ہے لیکن پاکستانی خواہش کے مطابق یہ جامع مذاکرات کی بحالی نہیں ہے۔

ممبئی حملوں سے قبل دونوں ہمسایہ ممالک جامع مذاکرات میں مصروف تھے جن میں تمام متنازعہ معاملات پر بات ہو رہی تھی۔

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ سے مارچ کے آخر میں بھوٹان میں سارک سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی اور اعتماد سازی کی بحالی پر اتفاق کیا تھا۔

اسی بارے میں