لاہور: عدالتوں نے دوبارہ کام شروع کر دیا

فائل فوٹو، وکلا
Image caption وکلاء کی طرف سے تشدد کے واقعات میڈیا میں آتے رہے ہیں

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ماتحت عدالتوں نے دو روز کی ہڑتال اور احتجاج کے بعد دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔

بدھ کو لاہورکی ماتحت عدلیہ کے ججوں نے اپنی عدالتوں میں بیٹھ کر مقدمات کی سماعت کی ۔

لاہور کی ماتحت عدلیہ کے ججوں نے پیر کو ضلعی بار ایسوسی ایشن کے وکلا کی طرف سے ڈسٹرکٹ و سیشن جج لاہور زوار شیخ کو ان کی عدالت میں بیٹھنے سے روکنے اور ان کی عدالت کو تالا لگانے کے واقعہ کے بعد عدالتی کام بند کر دیا تھا۔

شہر کی ماتحت عدلیہ کے ججوں نے تو عدالتی کام شروع کر دیا ہے لیکن سیشن جج لاہور زوار احمد شیخ کی عدالت کو بدستور تالا لگا ہوا اور وہ اپنی عدالت میں نہیں آئے۔

بدھ کو لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس اعجاز احمد چودھری نے ڈسٹرکٹ وسیشن کورٹس کا دورہ کیا اور تمام صورت حال کا جائزہ لیا۔

شہر کے سیشن اور سول ججوں کے وکلا کے رویہ کے خلاف احتجاج کی وجہ سے پیر اور منگل کو عدالت میں کسی قسم کا کام نہ ہوسکا اور تمام مقدمات کو بغیر کسی کارروائی کے آئندہ سماعت کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا۔

منگل کی دوپہر کو رجسٹرار لاہو ہائی کورٹ عبدالستار اصغر نے سینئر سول جج لاہور سے بات چیت کی جس کے بعد انہوں نے شہر کی ماتحت عدلیہ کو عدالتی کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔

لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی محمد انور نے لاہور میں وکلا کی طرف سے ضلع کےسیشن جج کو کام سے روکنے اور ان کی عدالت کو تالا لگانے کے واقعہ کے بعد اسی روز سیشن جج زوار شیخ سے معافی مانگ لی تھی۔

قاضی انورنے کہا کہ سیشن جج کو کام سے روکنے کے واقعہ پر انہیں بہت دکھ ہوا ہے کیونکہ یہ واقعہ جس جج کے ساتھ پیش آیا ہے وہ ایک نیک اور دیانت دار جج ہیں۔

خیال رہے کہ دو دن پہلے لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے وکلا نے ضلع کے سشین جج کے مبینہ نامناسب رویہ پر احتجاج کرتے ہوئے انہیں عدالتی کام کرنے سے روک دیا اور ان کی عدالت کو تالا لگا دیا تھا۔

وکلا نے اپنے احتجاج کے دوران نے سیشن جج کے خلاف نعرے لگائے اور ان کی گاڑی پر پتھراؤ بھی کیا اور پانی کی خالی بوتلیں پھینکیں تھیں۔تاہم پولیس نے سیشن جج سمیت تمام ججوں کو سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ سے پہنچا دیا تھا۔

اسی بارے میں