’پارلیمانی کمیشن عدالتی فیصلے کا ردِعمل‘

فائل فوٹو
Image caption موجودہ حکومت سپریم کورٹ سے خوفزدہ ہے اس لیے اُس کو آزادانہ طور پر کام نہ کرنے کے لیے ایسی ترامیم لائی جا رہی ہیں: عبدالحفیظ پیرزادہ

سینیئر وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم میں ججوں کی تعیناتی کے لیے پارلیمانی کمیشن کا قیام سپریم کورٹ کے سولہ دسمبر اور اکتیس جولائی سنہ دو ہزار نو کے فیصلوں کا ردعمل ہے جن میں عدالت نے قومی مصالحتی آرڈیننس اور تین نومبر سنہ دوہزار سات کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

انہوں نے یہ بات سپریم کورٹ میں اٹھارویں ترمیم کی کچھ شقوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اپنے دلائل کے دوران کہی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ نے اٹھارویں ترمیم کی کچھ شقوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت بدھ کے روز بھی جاری رکھی۔

بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کے مطابق عبدالحفیظ پیرزادہ کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم میں اعلیٰ عدالتوں میں ججوں سے متعلق جو شق 175 اے شامل کی گئی ہے یہ ترمیم نہیں ہے بلکہ یہ نئی قانون سازی ہے جس کا موجودہ پارلیمنٹ کو اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ترمیم سے عدلیہ کی آزادی صلب ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے جس سے لوگوں کے بنیادی حقوق بھی متاثر ہوں گے۔ عبدالحفیظ پیرزادہ کا کہنا ہے آئین کی 175 اے شق کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ میں متعدد افراد جعلی ڈگریاں رکھنے کے حوالے سے نااہل قرار دیے جا رہے ہیں اور جو لوگ دھوکہ دہی سے ایوان تک پہنچے ہوں ایسے لوگ آئین کا کیسے تحفظ کرسکتے ہیں۔

عبدالحفیظ پیرزادہ نے الزام عائد کیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین جاوید لغاری پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریوں سے متعلق رپورٹ ایک سال کے لیے روک دیں اور اس حوالے سے اُن کے بھائی کو ایک جعلی مقدمے میں گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

عبدالحفیظ پیزاردہ کا کہنا تھا کہ آئین میں کی گئی کسی بھی ترمیم کو آئین کے بنیادی ڈھانچے سے پرکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سپریم کورٹ سے خوفزدہ ہے اس لیے اُس کو آزادانہ طور پر کام نہ کرنے کے لیے ایسی ترامیم لائی جا رہی ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آئین اور قانون کے تحت جاری کیے گئے انتظامیہ کے حکم کو تحفظ دینے کے پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ نظام کو تباہ کرنے کے لیے نہیں بیٹھی بلکہ اس نظام کو بچانے کے لیے بیٹھی ہوئی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں اداروں کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ جمہوری حکومتوں کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمان مضبوط ہو تو کوئی بھی شخص باہر سے آ کر اسمبلیوں کو نہیں تورے گا۔

افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ موجودہ سپریم کورٹ اور ماضی کی سپریم کورٹ میں بڑا فرق ہے اور موجودہ سپریم کورٹ نے مارشل لاء کا راستہ روکا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سپریم کورٹ نے ہی تین نومبر سنہ دوہزار سات کے اقدامات اور ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا تھا۔

ان درخواستوں کی سماعت جمعرات کو بھی جاری رہے گی۔

اسی بارے میں