بلوچستان ! کون کس کے پیچھے ہے

Image caption ’سیاسی جدوجہد کے حامی دیوار کے پیچھے پناہ لینے پر مجبور کر دیے گئے ہیں‘

گیارہ جولائی کو تربت کے سابق ناظم مولا بخش دشتی کو نامعلوم افراد نے قتل کیا اور بلوچ پیپلز آرمی نامی ایک نئے گروپ نے اس قتل کی ذمہ داری کا دعوٰی کیا۔

مولا بخش دشتی کا تعلق نیشنل پارٹی سے تھا۔ پھر تین روز بعد چودہ جولائی کو کوئٹہ میں اس سے بھی ہائی پروفائل قتل ہوا جب نامعلوم افراد نے بلوچستان نیشنل پارٹی( مینگل) کے جنرل سیکرٹری اور سابق سینیٹر حبیب جالب کو قتل کردیا۔ اس کی ذمہ داری ایک اور نئی نویلی بلوچ مسلح دفاعی تنظیم نے قبول کرنے کا دعوٰی کیا۔

بلوچستان میں اس وقت بے یقینی، افراتفری اور شکوک و شبہات کی جو فضا ہے اس کے ہوتے ہوئے بڑی آسانی سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ دو معروف سیاستدانوں کا تازہ قتل انہی ایجنسیوں کی کارستانی ہوسکتی ہے جو نہ صرف بلوچوں کو غائب کرنے میں مصروف ہیں بلکہ جنہوں نے گذشتہ برس اپریل میں تربت میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے صدر غلام محمد بلوچ، لالہ منیر اور بلوچ ری پبلیکن آرمی کے رہنما شیر محمد بلوچ کو اغوا کرکے قتل کیا تھا۔

کوئٹہ کے ایک ذمہ دار صحافی نے یہ بات یاد دلائی کہ چند روز پہلے کوئٹہ پولیس کے سربراہ شبیر شیخ نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ اگر بلوچستان میں آبادکاروں کی ٹارگٹ کلنگز کا سلسلہ نہ رکا تو جوابی ٹارگٹ کلنگز بھی ہوسکتی ہیں۔

مگر تصویر کا ایک اور نسبتاً نیا رخ بھی ہے ۔بلوچستان کی وہ قوم پرست سیاسی جماعتیں جو آج بھی وفاقِ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے مسلح جدوجہد کے بجائے سیاسی جدوجہد کے ذریعے حقوق حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں انہیں کافی عرصے سے مسلح جدوجہد پر یقین رکھنے والے بلوچ قوم پرستوں کے دباؤ کا سامنا ہے۔

مسلح جدوجہد کرنے والے سمجھتے ہیں کہ سیاسی راستہ اختیار کرنے کا وقت گزر چکا ہے اور آج بھی جو لوگ ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں وہ دراصل بلوچوں کی مکمل آزادی کے مقصد کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ لہٰذا تحریری اور ٹیلی فونک دھمکیوں، جلسوں میں گڑ بڑ، فائرنگ اور کفن اور گولی کے تحائف وصول کرنے کے بعد بھی اگر سیاسی جدوجہد کی سوچ رکھنے والے باز نہیں آتے تو پھر ان کا علاج گولی ہے اور تین دن میں دو ہائی پروفائل سیاسی قتل اسی نئے مرحلے کا آغاز ہیں۔

اگر یہ بات درست ہے تو پھر بلوچستان میں بھی وہی دور شروع ہوچکا ہے جہاں ایک ہی کاز پر یقین رکھنے والے محض طریقے پر اختلاف کے سبب ایک دوسرے سے دشمنی کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔جیسے سری لنکا میں ہوا جب تامل ٹائیگرز نے تامل یونائٹڈ لبریشن فرنٹ کی قیادت اور کارکنوں کو اس لیے چن چن کر مارنا شروع کیا کیونکہ وہ بندوق کے بجائے سیاست کے حامی تھے۔

جیسے بھارت میں مسلح جدوجہد پر یقین رکھنے ماؤ نواز دیگر کیمونسٹ دھڑوں کو سرمایہ داروں اور سامراج کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔جیسے پیرو میں شائننگ پاتھ نے دیگر بائیں بازو والوں کو راہ سے ہٹانے کی کوشش کی تاکہ مسلح جدوجہد کی ترجمانی کرنے والوں کے علاوہ کوئی اور آواز باقی نہ رہے۔

اگر یہ بات درست ہے تو اس سے وفاقِ پاکستان کی فیصلہ ساز قوتوں کی نااہلی بھی ثابت ہوتی ہے جنہوں نے اپنی بدنیتی اور نااہلی سے بلوچستان کی قوم پرست سیاسی قوتوں کو رفتہ رفتہ دیوار سے لگا دیا اور آج وہاں کوئی بھی کھلے عام سیاسی ڈائیلاگ کی بات کرنے کے قابل نہیں رہا۔

بقول شخصے میچ ایک دلچسپ خونی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ وفاق صوبے کے وسائل کے پیچھے ہے، مسلح جدوجہد کے حامی صوبائی قیادت ، سیاسی راستے کے حامیوں اور غیر بلوچ آبادکاروں کے پیچھے ہیں اور صوبائی قیادت ، سیاسی جدوجہد کے حامی اور آباد کار دیوار کے پیچھے پناہ لینے پر مجبور کر دیے گئے ہیں اور اس دیوار کو مسلح جدوجہد کے حامی اور ایجنسیاں مل کے دھکا دے رہی ہیں۔

اسی بارے میں