میران شاہ ڈرون حملہ: دس ہلاک

ڈرون طیارہ فائل فوٹو
Image caption امریکی جاسوس طیارے سے یہ حملہ دو ہفتے کے وقفے کے بعد کیا گیا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے میرانشاہ میں دتہ خیل تحصیل میں ڈرونز کے حملے سے کم از کم دس افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

امریکی جاسوس طیارے سے یہ حملہ دو ہفتے کے وقفے کے بعد کیا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ علاقہ مدا خیل وزیروں کا ہے جسے مائزر کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس حملے میں میرانشاہ سے پچھہتر کلومیٹر دور جہاں جندل نامی شخص کے ایک کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق جندل کا یہ کمپاؤنڈ ڈنگر کلی میں ہےآ کمپاؤنڈ پر کم سے کم تین میزائل داغے گئے ہیں۔ پشاور سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگار عزیزاللہ نے بتایا ہے کہ مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والوں میں غیر ملکیوں کے شامل ہونے کی تصدیق نہیں کی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج شام ساڑھے چھ بجے سے سات بجے تک چار امریکی جاسوس طیارے اس علاقے پر پرواز کرتے رہے جس کے بعد جندل نامی شخص کے مکان پر تین میزائل داغے گئے۔طیارے اس حملے کے بعد بھی فضا میں موجود تھے جس وجہ سے مقامی لوگ وہاں امدادی کارروائیاں شروع نہیں کر سکے۔

میرانشاہ سے لوگوں نے بتایا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد مقامی تھے اور ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ ان میں امریکہ کو مطلوب افراد بھی شامل تھے۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ طیارے رات دیر تک میرانشاہ کی حدود میں رہے ہیں لیکن اس کے بعد کسی اور حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق شمالی وزیرستان ایجنسی شدت پسندوں کا گڑھ ہے اور حکومت پاکستان پر یہ دباؤ بھی ڈالا ہے کہ ان علاقوں میں بھی فوجی کارروائی کی جائے۔

شمالی وزیرستان کو طالبان رہنما حافظ گل بہادر کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں پاکستان حکومت کی جانب سے فوجی آپریشن کے بعد سے شمالی وزیرستان ایجنسی میں امریکی جاسوس طیاروں ڈرونز کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں