عوامی رائے کا ریکارڈ طلب

سپریم کورٹ( پاکستان)
Image caption ملک میں زمینی حقائق تیزی سے بدلتے ہیں جس کی وجہ سے پارلیمنٹ کے اختیارات کا تعین نہیں ہوتا: جسٹس رمدے

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے لیے بننے والی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی جانے والی عوامی رائے کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ نے اٹھارویں ترمیم کی کچھ شقوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت جمعرات کو بھی جاری رکھی۔

عبدالحفیظ پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اداروں کی مضبوطی ہی ملک میں جمہوریت اور اس کے استحکام کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ افراد آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اداروں کو مضبوط ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت عظمی کو آئین کی تشریح کا حق حاصل ہے اور اس کو ان درخواستوں کی سماعت کے بعد یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ پارلیمنٹ کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں یا نہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس ترمیم میں کچھ شقیں آئین کے بنیادی ڈھانچے سے مطابقت نہ رکھتی ہوں تو عدالت کو اس پر اپنی رائے دینے کا اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت گُزشتہ فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام تنازعات کو حل کرے گی اسی لیے سپریم کورٹ کے سترہ جج صاحبان بیٹھے ہیں۔

بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے عدالت میں موجود اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق سے استفسار کیا کہ جب اُنیس سو تہتر کا آئین پاس ہوا تھا تواُس وقت ایوان میں اس پر بحث بھی ہوئی تھی اور اس ضمن میں حزب اختلاف کی آراء کو منظور کیا گیا تھا لیکن اٹھارویں ترمیم کی منظوری سے پہلے اس پر ایوان میں کوئی بحث نہیں کروائی گئی تھی۔

عبدالحفیظ پیرزادہ کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ماضی میں کیے گئے کسی بھی فیصلے پر نظرثانی کرکے اُسے ختم کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے بنیادی خدوخال کے خلاف کوئی بھی ترمیم ہو تو عدالت اُسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس ثاقب نثار نے عبدالحفیظ پیرزادہ سے استفسار کیا کہ جب سپریم کورٹ کو آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار نہیں ہے تو آئین کے بنیادی ڈھانچے کا تصور کہاں سے آئے گا جس کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت کہے کہ آئین میں کی گئی فلاں ترمیم آئین کے بنیادی خدوخال سے مطابقت نہیں رکھتی۔

عبدالحفیظ پیرزادہ کا کہنا تھا کہ اس لیے عدالت اٹھارویں ترمیم سے متعلق دائر درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ کے اختیارت کا تعین کرے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت یہ فیصلہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے۔

بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے کا کہنا تھا کہ ملک میں زمینی حقائق تیزی سے بدلتے ہیں جس کی وجہ سے پارلیمنٹ کے اختیارات کا تعین نہیں ہوتا۔

درخواستوں کی آئندہ سماعت اُنیس جولائی تک ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں