ڈیوڈ ہیڈلی: بھارت کیا چاہتا ہے؟

ڈیوڈ کولمین
Image caption ڈیوڈ کولمین ہیڈلی پر الزام ہے کہ انہوں نے کالعدم لشکر طیبہ کے ساتھ مل کر دو ہزار آٹھ میں ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع مسائل کی کمی نہیں ہے لیکن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے بات چیت کے دوران بھارت ایک معاملہ جو بار بار اٹھا رہا ہے وہ ڈیوڈ کولمین ہیڈلی یا داؤد گیلانی کا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے لے کر وزرائے داخلہ و خارجہ اس مسئلے پر پاکستان سے پیش رفت کا تقاضا کرتے آ رہے ہیں لیکن بظاہر انہیں تسلی بخش جواب نہیں مل رہا۔ وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے بھی پاکستان آمد کے فورا بعد جو بیان جاری کیا تھا اس میں بھی اس معاملے پر پاکستان کی جانب سے پیش رفت سے مطلع کیے جانے کی امید ظاہر کی ہے۔

شکاگو امریکہ سے تعلق رکھنے والے ڈیوڈ کولمین ہیڈلی پر الزام ہے کہ انہوں نے کالعدم لشکر طیبہ کے ساتھ مل کر دو ہزار آٹھ میں ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کی۔ انہیں ڈنمارک میں اس اخبار پر حملے کی تیاری کرنے کے الزام کا بھی سامنا ہے جس نے پیغمبر اسلام کے کارٹون شائع کیے تھے۔ ڈیوڈ کولمین کو اکتوبر دو ہزار نو میں شکاگو سے پاکستان روانگی سے قبل گرفتار کیا گیا تھا۔

اس معاملے میں پاکستان کا تعلق اس نسبت سے بنتا ہے کہ ڈیوڈ ہیڈلی نے تحقیقات کے دوران اپنے مبینہ بیانات میں پاکستانی فوج کے بعض سابق یا حاضر سروس اہلکاروں کے ساتھ رابطوں کا اعتراف کیا ہے۔

اس بابت بھارتی حکومت کی جانب سے تو کچھ نہیں کہا گیا ہے لیکن یہ الزامات بھارتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آئے ہیں۔ سب سے زیادہ سخت بیان کل ہی بھارتی سیکرٹری داخلہ جی کے پلائی کی جانب سے اخباری انٹرویو میں آیا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ آئی ایس آئی نے ممبئی حملوں میں کوئی ضمنی کردار نہیں بلکہ مرکزی کردار ادا کیا۔ تاہم حکومت پاکستان اور فوج ان الزامات یا ان کی وجہ سے کسی گرفتاری کی تردید کرتی رہی ہے۔

بھارت میں اخبار دی ہندو سے منسلک سکیورٹی امور کے ماہر پراوین سوامی سے جب پوچھا گیا کہ آخر بھارت ڈیوڈ ہیڈلی کے حوالے سے پاکستان سے کیا چاہتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو ممبئی حملوں کے بارے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی تفتیش پر شک ہے۔

’ایف آئی اے نے کہا تھا کہ اس نے تمام مشتبہ افراد گرفتار کر لیے ہیں لیکن اسے پھر یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کیسے ہوئی تھی۔ ڈیوڈ نے لشکر طیبہ کے کچھ لوگوں کے نام لیے ہیں جو اس تفتیش میں سامنے نہیں آئے ہیں۔ اس وجہ سے بھارتی حکومت کو شک ہوا کہ کیا تحقیقات سنجیدگی سے کی گئی تھیں یا نہیں۔

ڈیوڈ ہیڈلی نے امریکی اور بھارتی تفتیش کاروں کو جو بیان دیا اس میں لشکر طیبہ کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی کے دو اہلکاروں نے نام بھی لیے تھے۔ اب بھارت چاہتا ہے کہ اس بیان کی روشنی میں ان افراد کے خلاف بھی کارروائی ہو‘۔

پراوین سوامی کا کہنا تھا کہ بھارت نے اب تک سرکاری سطح پر آئی ایس آئی کے ان مبینہ اہلکاروں کے نام عام نہیں کیے اور وہ محض میڈیا ’لیکس‘ میں سامنے آئے ہیں۔ ’بھارت اور پاکستان نے گزشتہ چند ہفتوں میں جن معلومات کا تبادلہ کیا ہے ان کی دستاویزات میں کیا کہا گیا ہے اس بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میرے خیال میں کچھ معلومات کا تبادلہ امریکہ کے ذریعے ہوا ہے‘۔

تاہم پراوین سوامی اس بات سے متفق نہیں کہ بھارت اب حافظ سعید کی بجائے ڈیوڈ ہیڈلی کی تفتیش پر زیادہ توجہ دے گا۔ ’میرے خیال میں حافظ سیعد سے متعلق بھارتی مطالبے میں مزید زور آئے گا ناکہ کمی‘۔

دوسری جانب پاکستان میں تجزیہ نگار بھارتی دباؤ کو ماضی میں بھی مذاکرات سے قبل پاکستان پر پریشر بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ماہنامہ نیوز لائن کے زاہد حسین کہتے ہیں کہ اس دباؤ سے بھارتی بیانات کا تضاد بھی واضح ہوتا ہے۔ ’ابتدا میں بھارت نے پاکستانی حکومت یا ریاستی ادارے کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد کر دیا تھا لیکن اب ان کو ہدف بنایا ہوا ہے۔ اس سے مذاکرات پر کوئی اچھا اثر نہیں پڑے گا‘۔

تاہم زاہد حسین اس تجویز سے متفق دکھائی دیے کہ پاکستانی ادارے ایف آئی اے کے تفتیش کاروں کو بھی بھارت کی طرز پر امریکہ سے ڈیوڈ ہیڈلی سے تفتیش کی اجازت مانگنی چاہیے۔ ’پاکستان کو خود متحرک ہونا پڑے گا اور صورتحال کو واضح کرنے کے لیے یہ یقیناً ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ یہ پاکستان کی اپنے مفاد میں بھی ہے۔ اس قسم کے الزامات درست ہو یا غلط نقصان دے ہوتے ہیں‘۔

اس حقیقت کے برعکس کے ڈیوڈ ہیڈلی امریکہ کی تحویل میں ہیں اور اگر اس نے آئی ایس آئی مخالف کوئی بیان دیا ہے تو اس پر محض بھارت ہی کیوں شور ڈال رہا ہے۔ امریکہ چپ کیوں ہے۔ زاہد حسین کا کہنا تھا کہ ڈیوڈ ہیڈلی کا کردار خود کافی مشکوک رہا ہے۔ ’شاید، خود امریکی ایک وقت پر مان چکے ہیں کہ وہ ڈبل ایجنٹ تھا‘۔

پراوین سوامی کو امید نہیں کہ بھارتی دباؤ میں آ کر پاکستان اس جانب کوئی بڑا قدم اٹھائے گا۔ تاہم وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ممبئی حملوں کے بارے میں بھارتی تحقیق تو پاکستان کی نظر میں مشکوک ہو سکتی ہے لیکن ڈیوڈ ہیڈلی کا کیس تو امریکہ دیکھ رہا ہے۔ تمام ثبوت امریکی عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔ لہذا میں امید کرسکتا ہوں کہ اس کی بنیاد پر کوئی کارروائی ہوگی۔

اسی بارے میں