مینگورہ: خودکش حملے میں چار ہلاک

سوات دھماکہ
Image caption دھماکے کا مقصد علاقے میں جاری امن کی کوششوں کو تباہ کرنا تھا: غلام فاروق

صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر منگورہ میں بس سٹینڈ کے قریب ایک خود کش دھماکے میں چار افراد ہلاک اور اڑتالیس زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد میں گوجرانوالہ اور پشاور کے رہائشی شامل ہیں۔

مینگورہ کے ضلعی پولیس افسر غلام فاروق نے بتایا ہے کہ یہ دھماکہ بس سٹینڈ کے قریب جی ٹی روڈ پر ہوا ہے اور پیدل خود کش بمبار کے جسم کے اعضاء موقع سے ملے ہیں۔

غلام فاروق کے مطابق حملہ آور کا مقصد علاقے میں جاری امن کی کوششوں کو تباہ کرنا تھا۔

سول ہسپتال سیدو شریف میں ڈاکٹر اقبال نے بتایا ہے کہ ایک خاتون سمیت چار افراد کی لاشیں اور اڑتالیس زخمی ہسپتال لائے گئے ہیں۔

سوات میں دو ہفتوں سے امن میلہ جاری ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ دیگر علاقوں سے پہنچے ہیں۔

ہلاک اور زخمیوں میں مقامی افراد کے علاوہ پشاور اور گوجرانوالہ کے رہائشی شامل ہیں۔

پشاور میں ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان سے بات کرتے ہوئے ایک زخمی نے بتایا کہ جب دھماکہ ہوا تو ہر طرف دھواں پھیل گیا تھا اور بڑی تعداد میں زخمی گرے پڑے تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ دکان میں موجود تھے اور انھیں ٹانگ پر شدید زخم آئے ہیں۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے اور جہاں دھماکہ ہوا ہے یہ بس سٹینڈ کے قریب ہے۔ یہاں پر ایک چھوٹی گاڑیوں کا اڈا بھی ہے جبکہ مرغیوں کی اور دیگر سامان کی دکانیں ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں ورکشاپ میں بچے گاڑیوں کا کام سیکھنے بھی آتے ہیں۔

مینگورہ میں ہوئے خود کش حملے کی زمہ داری تحریک طالبان سوات نے قبول کر لی ہے۔

اپنے آپ کو تحریک طالبان سوات کا ترجمان ظاہر کرنے والے عمر حسن احرابی نے نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلیفون کرکے اپنی تنظیم کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ وہ سوات میں شریعت کے نفاذ کے لیے کوششیں کر رہے ہیں امن میلوں کے وہ مخالف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس حملے میں ان کا ہدف سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہی تھے لیکن فدائی حملے میں شہریوں کا خیال رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

مینگورہ میں دو ہفتوں سے امن میلے کی تقریبات ہو رہی ہیں جن میں شرکت کے لیے ملک کے دیگر علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ پہنچے ہیں۔ اس میلے میں مختلف اشیاء کے سٹال لگائے گئے ہیں جبکہ تفریح کے لیے جھولے اور سرکس وغیرہ کے شو منعقد ہو رہے ہیں۔

سوات میں دو ہفتوں سے امن میلہ جاری ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ دیگر علاقوں سے پہنچے ہیں۔

اس سے پہلے جمعرات اور بدھ کی درمیانی شب پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں لنڈی کوتل کے مقام پر حضرت بابا جی کی زیارت اور ملحقہ مسجد میں نیم شب کے وقت دھماکے ہوئے ہیں جس سے زیارت اور مسجد کو نقصان پہنچا ہے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق یہ واقعہ رات دو بجے اشخیل کے مقام پر قائم ایک دربار خانقاہ بنوریہ میں ہوا ہے جس سے زیارتوں اور قریب جامع مسجد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

اسی بارے میں