سوات: فوج پر ماورائے عدالت قتل کا الزام

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ سوات میں پاکستان فوج 238 افراد کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہے۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ پاکستان فوج کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید ہے۔ اس سے پہلے بھی ایسی رپورٹیں سامنے آتی رہیں مگر وہ ثابت نہیں ہو سکیں۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں جب پاکستان فوج نے وادی سوات کا دوبارہ کنٹرول حاصل کیا اس وقت سے تنظیم کو ماورائے عدالت قتل کی کئی اطلاعات موصول ہوئیں ہیں۔ رواں سال فروری سے تنظیم نے سوات میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور 238 افراد کی مشکوک ہلاکتوں کی مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے فراہم کی گئی فہرست کی تحقیقات کیں جس میں پچاس ہلاکتوں کی تصدیق ہو سکی مگر ہلاکتوں کی تعداد اس سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ابھی تک پاکستان فوج نے ان واقعات میں ملوث کسی ذمہ دار کو سزا نہیں دی ہے۔

تنظیم کے جنوبی ایشیا کے بارے میں محقق علی دایان حسن کا کہنا ہے کہ پاکستان فوج کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سوات میں سر میں گولی مارکر دل اور دماغ نہیں جیتے جاسکتے، مشتبہ افراد یا ان کے رشتے داروں کو مار ڈالنا ایک گھناؤنی کارروائی ہے، جس سے دہشت گردی کی روک تھام نہیں بلکہ مزید دشمن پیدا ہوں گے۔

Image caption فوج نے طالبان کو سوات سے نکال کر وہاں مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے

تنظیم کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس بھی ماورائے قتل میں ملوث ہے مگر اکثر واقعات اس طرح کے واقعات میں فوج شامل رہی ہے۔ رپورٹ میں سات ایسے واقعات کی تفصیل دی گئی ہیں جن میں مشتبہ طالبان کو فوج اٹھاکر لے گئی بعد میں ان کی گولیوں سے چھنی لاشیں ملیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اٹھائیس مارچ کو فرمان علی نے جو مٹہ کے رہائشی تھے سرچ کے دوران بارہ پنجاب ریجمنٹ کے سامنے گرفتاری پیش کی، چشم دید گواہوں کے مطابق اسی وقت دو اور نامعلوم افراد کو بھی حراست میں لیا گیا بعد میں فوجی حکام نے دونوں افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ظاہر کیں جنہیں طالبان جنگجو قرار دیا گیا۔

تنظیم کے مطابق فرمان علی فوج کی حراست میں رہے اور رشتے داروں کو اس تک رسائی نہیں دی گئی بعد میں چھبیس مئی کو اس کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں نے تنظیم کو بتایا کہ اکیس فروری کو مطلوبہ طالبان کمانڈر محمد علیم اور شمس الہادی کے ساتھ دیگر دو افراد مراد اور سلیم کی لاشیں ملیں جن میں سے مقامی لوگوں نے سابق طالبان کمانڈروں کی تو تصدیق کی مگر ان کا کہنا تھا کہ مراد اور سلیم کے طالبان سے کوئی روابط نہیں تھے اور وہ کسی سرگرمی میں ملوث نہیں رہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ جب سے پاکستان فوج نے سوات کا دوبارہ کنٹرول سنبھالا ہے امن امان کی مجموعی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور لوگوں کو سرعام پھانسی پر لٹکانے اور کوڑے مارنے جیسے واقعات بند ہوگئے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان فوج کو ماورائے عداالت قتل کے واقعات کی تحقیقات کرنی چاہیں اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ تنظیم نے امریکہ، برطانیہ اور پاکستان کے دیگر اتحادی ملکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے روکے۔

دوسری جانب پاکستان فوج کے شعبہ رابطہ عامہ کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ فوج سوات یا کسی اور جگہ عدالت سے ماورائے قتل میں ملوث نہیں رہی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس پر تبصرہ کیا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں