’دونوں ملکوں کی قلعی کھل گئی‘

وزرائے خارجہ
Image caption ایسا لگتا ہے جیسے دل کا حال چہروں سے عیاں ہو رہا ہو۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ مذاکرات نے دونوں ملکوں کی قیادت کی باہمی مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں اور صلاحیت کے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔

ممبئی حملوں کے بعد سے دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان پہلے باضابطہ مذاکرات کے تین ادوار صرف اسی نکتے کے گرد گھومتے رہے کہ سرحد کے دونوں جانب کیا سیاسی نزاکتیں ہیں اور یہ کہ دونوں حکومتیں کس موضوع پر بات کر سکتی ہیں اور کس موضوع کو زیر بحث لانا بھی ان کے لیے سیاسی طور پر ممکن نہیں ہو گا۔

مذاکرات سے واقف پاکستانی دفتر خارجہ کے بعض ذرائع کے مطابق بدھ کو تمام دن جاری رہنے والی اس باضابطہ بات چیت میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ ایک دوسرے کی بات سننے تک میں بے بس دکھائی دیے۔

مثال کے طور پر بھارتی وزیر خارجہ نے مذاکرات شروع ہوتے ہی اعلان کر دیا کہ انہیں دلی سے جو مینڈیٹ دیا گیا ہے اس کے مطابق وہ صرف دہشت گردی اور اس سے متعلقہ امور پر ہی گفتگو کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں جب انہوں نے پاکستانی نژاد امریکی شہری ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کا ذکر شروع کیا تو پاکستانی وزیر خارجہ ان کی مکمل بات نہ سن سکے۔

شاہ محمود قریشی نے اپنے بھارتی ہم منصب کو بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان مذاکرات میں ڈیوڈ ہیڈلی کا ذکر بے جا ہے۔ اس معاملے پر بات کے لیے دونوں ملک وزرائے داخلہ کی سطح پر بات کر رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں داخلہ سکرٹریوں کی ملاقات بھی متوقع ہے۔

اسی طرح جب پاکستانی وفد کی جانب سے بلوچستان میں مبینہ بھارتی مداخلت اور خاص طور پر خود ساختہ جلا وطن قوم پرست راہنما برہمداغ بگٹی کو مبینہ طور پر بھارتی مالی اور سفارتی مدد کا ذکر ہوا تو یہ بات بھی ادھوری ہی رہی۔

بھارتی وفد کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے بات ہو چکی ہے اور اب اس میں اضافہ یہی ہو سکتا ہے کہ پاکستان ان الزامات کے ٹھوس ثبوت دے ورنہ کسی اور موضوع پر بات کی جائے۔

پاکستانی وزیرخارجہ نے اجلاس کو بتایا کہ انہوں بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی مختلف سیاسی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مراسلے تحریر کیے ہیں جس میں بھارتی حکومت سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیاں روکنے کا مطالبہ کرنے کو کہا گیا ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کشمیر اس فورم پر زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔ البتہ چونکہ انہیں دہشت گردی پر بات کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے لہذا اگر پاکستان سے کشمیر میں مبینہ طور پر بھیجے جانے والے ’دہشت گردوں‘ کو روکنے کی بات کی جائے تو یہ عین مناسب ہو گا۔

اسی طرح کی بحث تمام دن چلتی رہی، اگر بھارت حافظ سعید اور ممبئی ملزمان کو سزا دلوانے کا معاملہ اٹھاتا تو پاکستان کی جانب سے اجمل قصاب کو سزا سنانے والے جج اور پراسیکیوٹر کو پاکستانی عدالتی نظام کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ سامنے لایا جاتا۔

ایسے میں بھارتی اور پاکستانی وفود عوامی خواہشات سے زیادہ دونوں ملکوں کی اسٹیبلشمنٹ کے نکتہ نظر کی ترجمانی کرتے نظر آئے۔

اسی بارے میں