بھارت پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستانی فوجی چکوٹی سیکٹر میں
Image caption ایل او سی کے آر پار دونوں ممالک کی افواج میں گولیوں کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس نے ہندوستان کی فوج پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فوج نے لائن آف کنڑول کے دوسری جانب سے جمعرات کی رات کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میں گولہ باری کی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس میں کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

لائن آف کنڑول پر گولہ باری کا یہ واقعہ ایک ایسے مرحلے پر پیش آیا جب اسلام آباد میں ہندوستان اور پاکستان کے وزراء خارجہ کے درمیان ملاقات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی فوج نے کل رات مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجے جنوبی ضلع راولاکوٹ کے بٹل علاقے میں گولہ باری شروع کی اور یہ وقفے وقفے سے رات گیار بجے تک جاری رہی۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی فوج نے فائرنگ میں مارٹر اور ہلکے ہھتیاروں کا استعمال کیا۔تاہم پولیس کے مطابق اس واقعہ میں کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ آیا پاکستان کی فوج نے بھی فائرنگ کی یا نہیں۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد نومبر سن دو ہزار تین میں لائن آف کنڑول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا جو اب تک قائم ہے۔

لیکن اس دوران اب تک لائن آف کنڑول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں تاہم فائرنگ کا تبادلہ کم و بیش دونوں ممالک کی افواج کی چوکیوں تک ہی محدود رہا۔

اس کے نتیجے میں دونوں اطراف سے کئی فوجی ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں البتہ عام شہریوں کو بہت کم نقصان پہنچا۔

دونوں ممالک کے درمیان فائر بندی کے معاہدے سے پہلے لائن آف کنڑول پر فائرنگ کا تبادلہ معمول کی بات تھی۔

ہندوستان اکثر پاکستان پر عسکریت پسندوں کو تربیت دینے، اسلحہ فراہم کرنے اور انہیں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل کرانےکے لیے فائرنگ کرنے کے الزامات لگاتا رہا ہے جبکہ پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

اسی بارے میں