کوئٹہ میں دو سکول ٹیچر قتل

کوئٹہ میں قتل: فائل فوٹو
Image caption کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کے ایک واقعے میں دو افراد ہلا ک ہو گئے ہیں۔

پولیس نے فائرنگ کے اس واقعہ کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے۔ ہلاک ہونے والے دونوں افراد کوئٹہ کے مقامی سکول کے استاد تھے۔

جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب طوغی روڈ کے علاقے میں ایک موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے جنرل اسٹور پر فائرنگ کی جس کے باعث دکان پر بیھٹے ہوئے دوافراد نعیم ہزارہ اور محمد امجد موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ اور شخص ظہور احمد شدید زخمی ہوا، جسے فور ی طور پر سول ہسپتال کوئٹہ پنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت تشویش ناک بتائی ہے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ حامد شکیل نے اس واقعہ کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ میں ہلاک ہونے والے محمد امجد اور زخمی ظہور احمد کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہزارہ سے ہے۔

واقعہ میں ہلاک ہونے والے محمد نعیم ہزارہ اور محمد امجد قائد آباد ہائی سکول کے اساتذہ تھے۔ واقعہ کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے طوغی روڈ پر احتجاج کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔

دوسری جانب انصار الاسلام نامی تنظیم کے ترجمان ابوحمزہ نامی ترجمان نے ایک نامعلوم مقام سے کوئٹہ میں اخبارات کے دفاتر فون کرکے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری حبیب جالب بلوچ ایڈوکیٹ کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ وہ جلد ہی اس واقعہ کی ویڈیو بھی جاری کرینگے۔

اس سے قبل بلوچ مسلح دفاع نامی تنظیم نے نوشکی پریس کلب ٹیلی فون کرکے حبیب جالب بلوچ کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

خیال رہے کہ حبیب جالب بلوچ کی ہلاکت سے تین دن قبل نیشل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن اور سابق ناظم کیچ مولا بخش دشتی کو نامعلوم افراد نے تربت میں گولی مارکر ہلاک کر دیا تھا ـ جس کے بعد مولا بخش دشتی کی ہلاکت کی ذمہ داری بھی دو تنظیموں یعنی بلوچ مسلح دفاع تنظیم اور بلوچ پیپلز آرمی نے الگ الگ طور پر قبول کی تھی۔

اسی بارے میں