پاک بھارت وزرائے خارجہ کے متضاد بیانات

Image caption جب دو ممالک برابری کی سطح پر مذاکرات کے لیے بیٹھتے ہیں تو بات چیت مشروط نہیں کی جاسکتی

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھا۔

یہ بات وزیر خارجہ نے جمعہ کے روز فارن سروسز اکیڈمی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا یہ المیہ رہا ہے کہ جب بھی دونوں ممالک میں پیش رفت ہونے لگتی ہے تو آخری لمحوں میں کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کو کسی سے مشاورت کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ ’میرے پاس مینڈیٹ تھا لیکن بھارتی وزیر خارجہ کو بار بار دلی سے ہدایات کیوں آ رہی تھیں۔‘ (وڈیو)

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے پاکستانی وزیر خارجہ کے اس بیان کو غیر معمولی بیان کہا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے نہ تو دلی سے رابطہ کیا نہ ہی انہیں ضرورت تھی۔(وڈیو)

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’بھارتی وزیر اعظم اور بھارتی وزیر خارجہ دونوں کی سوچ مثبت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ بات آگے بڑھے لیکن ہو سکتا ہے کہ کہیں دشواریاں ہوں۔ وہ مذاکرات میں مخصوص ایشوز پر بات کرنا چاہتے تھے۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا ’پتہ نہیں رات اور صبح کے درمیان کیا ہوا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا یہ المیہ رہا ہے کہ جب بھی دونوں ممالک میں پیش رفت ہونے لگتی ہے تو آخری لمحوں میں کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مذاکرات میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی اور پاکستان مثبت تھا اور آگے بڑھنا چاہتے تھے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جب بھارت ٹمپو میں بات چیت کے بعد کہہ چکا تھا کہ مذاکرات میں تمام معاملات پر بات چیت کی جائے گی تو اسلام آباد پہنچ کر مخصوص مسئلے پر بات نہیں ہو سکتی۔

’بھارت کے کچھ ایشوز تھے اور ہم سمجھتے ہیں ان کے ایشوز کو ان کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن مثبت بات چیت اس وقت ہو سکتی ہے جب ہمارے بھی ایشوز پر بات چیت کی جائے نہ کہ نظر انداز کیا جائے۔‘

وزیر خارجہ نے میڈیا سے یہ بات چیت اس وقت کی ہے جب بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا بھارت واپس روانہ ہو گئے ہیں۔ روانگی سے قبل جمعہ کے روز انہوں نے عوامی بیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف سے ملاقات کی۔

کشمیر کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ یہ طے شدہ بات ہے کہ کشمیر شروع ہی سے مذاکرات کا حصہ رہا ہے اور پاکستان اور اس کی عوام سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو اور فوج کی طلبی اور ہڑتالوں سے لاتعلق رہے۔

اسی بارے میں