لاہور میں کم شدت کے دو دھماکے

لاہور
Image caption پہلے دھماکہ گڑھی شاہو اور دوسرا دھماکہ بیگم کوٹ کے علاقے میں ہوا۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں یکے بعد دیگرے دو مختلف مقامات پر کم شدت کے دھماکے ہو ئے ہیں اور ان دھماکوں کا نشانہ علاقے کے انٹرنیٹ کیفے تھے۔

پہلے دھماکہ گڑھی شاہو اور دوسرا دھماکہ بیگم کوٹ کے علاقے میں ہوا۔ ان دونوں دھماکوں میں کم ازکم پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے بقول ان دھماکوں کا مقصد لوگوں میں خوف وہراس پھیلانا تھا۔

گزشتہ بیس دنوں میں یہ دوسرا موقع ہے کہ جب شہر میں اوپر تلے کم شدت کے دھماکے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے چھبیس جون کو لاہور کی معروف اور مصروف الیکٹرنکس مارکیٹ یعنی ہال روڈ پر سی ڈیز کی دو دکانوں پر ایسے کم شدت کے دھماکے ہوچکے ہیں۔

لاہور پولیس کے سربراہ اسلم ترین نے ان دھماکوں کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی مارکیٹوں کی سکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے اور ان کے بقول ان کارروائیوں میں مقامی عنصر ملوث ہو سکتا ہے۔

ہمارے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ گڑھی شاہو اور بیگم کوٹ( شاہدرہ) میں ہونے والے ان کم شدت دھماکوں سے انٹرنیٹ کیفے کے شیشے ٹوٹ گئے وہاں موجود سامان کو شدید نقصان پہنچا۔

پولیس کے مطابق شہر میں جو کم شدت کے دو دھماکے ہوئے ہیں وہ کریکرز کے تھے اور بظاہر یہ دھماکے بھی انہیں کم شدت دھماکوں کی کڑی لگتے ہیں ہے جو اس سے پہلے شہر کے مختلف علاقوں میں ہوچکے ہیں۔ ریسکیو کے ایک اہلکار کے مطابق دھماکے کے لیے ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیے گئے ہیں۔

پولیس نے ان دونوں دھماکوں کے الگ الگ پولیس سیٹشنوں میں مقدمات درج کر کے اپنی چھان بین شروع کردی ہے ۔پولیس نے ان دھماکوں کے بعد شہر کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کیفے بھی بند کروا دیے ہیں۔

Image caption اس سے پہلے بھی لاہور میں مختلف مقامات پر کم شدت کے دھماکے ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ لاہور میں اس سے پہلے بھی ان مختلف مقامات پر کم شدت کے دھماکے ہوچکے ہیں جو علاقے ثفافتی سرگرمیوں کے لیے مشہور ہیں۔ ان علاقوں میں مال روڈ پر الفلاح تھیٹر، لبرٹی مارکیٹ کے قریب قذافی سٹیڈیم میں کلچرل سینیٹر، رائے ونڈ روڈ پر رفیع پیر تھیٹر ، ہال روڈ ا ور ٹبی کے علاقہ شامل ہے۔لاہور میں ہی اس سال مارچ میں اقبال ٹاؤن کے علاقے میں ہی یکے بعد دیگرے چھ دھماکے کیے تھے جو شہر میں ایک وقت میں ہونے والے کم شدت دھماکوں میں سب زیادہ دھماکے تھے۔

اسی بارے میں