آخری وقت اشاعت:  پير 19 جولائ 2010 ,‭ 18:37 GMT 23:37 PST

’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی‘

پاکستان کے کوئی پچاس کے لگ بھگ طلبا اور طالبات یونیورسٹیوں کے مشاہدے کے لیے پانچ یورپی ملکوں کے پندرہ شہروں کا دورہ کررہے ہیں۔ ان کے اس دورے کا مقصد آئیندہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ان ملکوں کے کسی ادارے کا انتخاب کرنا ہے۔

اس کا اہتمام پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ان با صلاحیت طلبا اور طالبات کے کے لیے کیا ہے جنھوں نے اپنے اپنے تعلیمی بورڈوں کے امتحانات میں ا متیازی پوزیشین حاصل کی ہیں۔ میٹرک سے لیکر بی ایس سی تک کے ان پچاس طلبا کا تعلق ملک بھرکے تعلیمی اداروں سے ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے تمام تر اخراجات حکومت پنجاب برداشت کرے گی۔

طلباء

پاکستانی طلباء اپنے اور اپنے ملک کے مستقبل سے نہایت پر امید ہیں

یہ طلبا فرانس، سویڈن، نیدر لینڈ اورجرمنی کے پندرہ شہروں کا دورہ کرنے کے بعد آخری مرحلے میں لندن آئے تو ہمارے ساتھی ثقلین امام نے ان میں سے چند طلبا سے بی بی سی کے سٹوڈیوز میں بات کی اور موضوع گفتگو ہے ’طلبا کے مستقبل کے ارادے‘۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

شریک گفتگو ہیں، جلال پور ملتان کے شاہد اقبال، سکھر کے مظہر حسین، کوہاٹ کے اویس خالق، سرگودھا کے وجیہ نور سید، میر پور کے ندا حسین، گوجرانوالہ کے حمیرا جاوید، لاہور کی عائشہ گیلانی اور بلوچستان کی عابدہ کاکٹر۔

پاکستان سے آنے والے طلبا یورپی معاشروں کی جس بات سے بہت متاثر ہوئے وہ یہاں کے لوگوں کی وقت کی پابندی کی عادت ہے۔ اس کے علاوہ جب طلبا نے مختلف یورپی یونیورسٹیوں کا مطالعہ دورہ کیا توان کا کہنا تھا کہ یہاں تعلیم کا مطلب صرف معلومات نہیں ہے بلکہ یہاں عمل کو تعلیم کہا اور سمجھا جاتا ہے۔ سکھر سے تعلق رکپنے والے ایک طالب علم مظہر حسین نے کہا کہ وہ اس مطالعاتی دورے سے ایک عزم لے کر پاکستان واپس جا رہے ہیں اور وہ یہ کہ اگر یہاں کی اقوام عظیم بن سکتی ہیں تو ان کا وطن ایک عظیم ملک کیوں نہیں بن سکتا ہے۔

طلباء کا گروپ فوٹو

طلباء یورپ کے نظامِ تعلیم سے بہت متاثر ہیں

پاکستان سے آنے والے ان طلبا اور طالبات کو یورپی شہروں میں سڑکوں پر صفائی اور عام شہریوں کا صفائی پسند ہونا بہت اچھا لگا۔ عائیشہ نے کہا کہ وہ یہاں کی صفائی کو بھی پاکستان لے جانا چاہتی ہیں۔ کوہاٹ کے اویس خالق نے کہا کہ ان کے اپنے ملک کو صاف ستھرا بنانے کیلئیے وہاں ایک ایک شہری کو اپنا فرض ادا کرنا پڑے گا’اگر ہم ایک کاغذ کا ایک ٹکڑا ہی سڑک سے اٹھادیں تو یہی صفائی کا آغاز ہو سکتا ہے۔‘

پاکستان سے آنے والی خبروں کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ وہاں تشدد، قتل و غارت کے علاوہ کچھ نہیں ہورہا ہے اور شاید تمام نظام ہی دڑم تحتہ ہوگیا ہے۔ مگر یورپ کی سیر پر آنے والے امتیازی پوزیشن حاصل کرنے والے ان طلبا اور طالبات کے عزم کو دیکھ کی ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک روشن مستقبل کے نقیب ہیں اور نہایت پر امید بھی ہیں۔ ایسے ہی ہمت اور قابل طلبا اور طالبات کو دیکھ کر علامہ اقبال کے شعر کے یہ مصرع یاد آتا ہے: ’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی‘!

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔