ریل انجنوں کی عدم دستیابی، چھ ٹرینیں بند

فائل فوٹو

پاکستان ریلوے نے ریل انجنوں کی عدم دستیابی اور مالی خصارے کی وجہ سے مذید چھ ریل گاڑیوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اِس فیصلے کے تحت تین ریل گاڑیوں کو سنیچر سے بند کر دیا گیا ہے جب کہ دیگر تین ریل گاڑیوں کو آئندہ چند روز میں بند کر دیا جائے گا۔

ریلوے انتظامیہ جن ریل گاڑیوں کو بند کر رہی ہے ان میں تین ریل گاڑیاں آج سے، دو ریل گاڑیاں بیس جولائی سے اور ایک ریل گاڑی اس مہینے کے آخر میں بند کی جائے گی۔

ان چھ ریل گاڑیوں میں وہ تین ریل گاڑیاں بھی شامل ہیں جوگزشتہ تین دہائیوں سے چل رہی تھیں اور ریلوے کی مشہور اور اہم ریل گاڑیوں تصور ہوتی ہیں۔ ان مشہور ریل گاڑیوں میں شالیمار، تیز رو اور چلتن شامل ہیں۔

پاکستان ریلوے اپنی مالی مشکلات اور خسارے کو کم کرنے کے لیے پہلے ہی آٹھ ریل گاڑیاں بند کرچکی ہے اور اب یہ تعداد بڑھ کر چودہ ہو جائے گی۔

پاکستان ریلویز کے جنرل مینجر اشفاق خٹک کے بقول جن ٹرینوں کو بند کیا گیا ہے وہ خسارے میں جا رہی تھیں۔

پاکستان ریلویز کے ترجمان شاہد اسلم نے بی بی سی کو بتایا ’ریلوے انتظامیہ نے ریل انجنوں کی کمی کے باعث ان ریل گاڑیوں کو عارضی بنیادوں پر بند کیا ہے۔‘

ان کے بقول سترہ جولائی یعنی سنیچر کو جن ریل گاڑیوں کو بند کیا گیا ہے اُن میں مہران ایکسپریس، سیالکوٹ ایکسپریس اور سخی پال ایکسپریس شامل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بیس جولائی سے تیزور اور چلتن ایکسپریس کو بھی بند کر دیا جائے جب کہ انتیس جولائی سے شالیمار ایکسپریس بھی نہیں چلے گی۔

شالیمار ایکسپریس لاہور سے کراچی کے درمیان، چلتن کوئٹہ سے لاہور اور تیزور کراچی سے پشاور چلتی ہیں۔

واضح رہے کہ جب اسی کی دہائی میں شالیمار ایکسپریس کا افتتاح کیا گیا تھا تو اس ریل گاڑی کو پاکستان ریلویز کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا گیا تھا کیونکہ یہ ریل گاڑی بہت تیز رفتار تصور کی جاتی تھی۔

ایک سوال پر پاکستان ریلویز کے ترجمان شاہد اسلم نے کہا کہ اس بارے میں ابھی کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا کہ جو ریل گاڑیاں بند کی گئی ہے اُنہیں کب بحال کیا جائے گا۔

لاہور سے ہمارے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلویز نے ایک سو بیس ایسی ریل گاڑیوں کی نشاندہی کی ہے جن کے اخراجات زیادہ اور آمدنی کم ہے اور ریلوے حکام کے مطابق یہ وہ ریل گاڑیاں ہیں جو خسارے میں جا رہی ہیں۔

ریلوے حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر حکومت ریلوے انتظامیہ کی غیر منافع بخش ریل گاڑیوں کو بند کرنے کی تجویز مان لیتی ہے تو دو سال کے عرصہ میں اکیاون ایسی ٹرینیں بند کردی جائیں گی جو ریلوے کے لیے خسارے کا باعث ہیں۔

پاکستان ریلویز ملک بھر میں دو سو ساٹھ ریل گاڑیاں چلا رہا ہے اور ان میں سے صرف چالیس ٹرینیں ایسی ہیں جن سے اسی فیصد آمدن ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں