’سوات میں فوج کا کردار شفاف ہے‘

پاکستان آرمی
Image caption پاکستان فوج پر پہلے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے الزامات لگائے گئے ہیں

پاکستان کی فوج نے کہا ہے کہ سوات سے متعلق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی تازہ رپورٹ میں فوج پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ متعلقہ یونٹوں کو بھیجے گئے ہیں اور تفصیلی جواب ملنے کے بعد ہی اس بارے میں وضاحت سے ردعمل جاری کیا جائے گا۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ سوات میں پاکستان کی فوج نے 238 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا ہے۔

پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ذوالفقار علی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے ان یونٹس کو (اس رپورٹ کا متن) بھیجا ہے۔ جن کا نام اس میں لیا گیا ہے اور جو زمینی حقائق ہیں وہ ان کو زیادہ معلوم ہیں۔ تو جیسے ہی جواب آئے گا ہم اسکے متعلق آپ کو آگاہ کریں گے۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ سوات میں فوج کا انتہائی شفاف کردار رہا ہے اور ہر علاقے میں ہر موڑ پر فوج نے وہاں کے عوام کی مدد کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہاں کی عوام کی طرف سے فوج کو مکمل حمایت حاصل رہی۔

میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ چونکہ اس رپورٹ میں خاص علاقوں اور واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس لیے تفصیلی ردعمل یا تبصرہ اسی وقت کر پائیں گے جب متعلقہ ادارے اسکے متعلق آگاہ کریں اور ہمیں تفصیلی جواب دیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس قسم کے سنگین الزامات فوج پر لگتے رہے ہیں اور ان الزامات کے متعلق بھی ہم نے گاہے بگاہے جواب دیا کہ ان کا معیار اور خاص طور پر ان کے ذرائع کیا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی انھوں نے اس طرح کی کئی رپورٹوں کو مسترد کیا ہے اور ان کی مذمت کی ہے۔

میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ ان کے نزدیک سب سے بڑا معیار وہاں کی عوام ہے جن کے علاقے کو فوج نے دہشت گردی سے نکالا ہے اور عوام کو اسے نجات دلائی ہے اور ان سے ہی پوچھا جائے کہ اس کارروائی میں فوج کا کیا کردار رہا ہے۔

اسی بارے میں