کیا جناح بھی بن لادن تھے؟

تیرے بن لادن
Image caption سنسر بورڈ نے بھارتی فلم ’تیرے بن لادن‘ کو یہ کہہ کر روک دیا کہ اس میں بہت سے گھٹیا جملے ہیں

پاک لوگوں کی سرزمین میں جس طرح کچھ بھی طے نہیں ۔یہ بھی طے نہیں ہے کہ ریاست کی سنسر پالیسی کیا ہوگی اور سنسر کرنے والے کن بنیادی معیارات کو مدِ نظر رکھ کے کسی ڈرامے، دستاویزی فلم، فیچر فلم، مضمون، خبر یا ویب سائٹ کو سنسر کریں گے۔ یہ بھی طے نہیں ہے کہ مذکورہ بالا اصناف کو سنسر کرنے کا حتمی اور قانونی مجاز کون ہے؟ عدالت، پارلیمان، وزارتِ اطلاعات، لینڈ اینڈ سی کسٹمز ، جی ایچ کیو، گریڈ سترہ کا کوئی سیکشن آفسر یا پھر کوئی سنسر کمیٹی؟

کہا یہ جاتا ہے کہ پاکستان میں ہر وہ تخلیق اور تحریر سنسر ہوسکتی ہے جو مخربِ اخلاق ہو، یا جس سے کسی کے مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچے، یا جو نظریہ پاکستان اور قومی اکابرین کو منفی انداز میں پیش کرے۔ جس سے ملکی یکجہتی، عدلیہ، فوج اور قومی قیادت کی بے جا کردار کشی مقصود ہو یا پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دوست ممالک سے تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔

لیکن آج تک کوئی حکومت یہ طے نہ کر سکی کہ غیر اخلاقی تحریر و تخلیق کی قانونی تعریف کیا ہے، نظریہ پاکستان کیا ہے، ملکی یکجہتی سے کیا مراد ہے۔ بے جا کردارکشی کی حدود کیا ہیں۔ خارجہ پالیسی کیا ہے اور دوست ممالک کون ہیں اور انکے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے اور کیا نہیں کہا جاسکتا۔

چونکہ کچھ بھی طے نہیں ہے اس لیے ہر صاحبِ اختیار بندر کے ہاتھ میں سنسر ایک استرا بنا ہوا ہے۔

جس ملک میں بانی پاکستان کی توہین قانوناً غداری کے مترادف ہے۔اسی بانی پاکستان کی گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کی تقریر کا متن جب اگلے دن کے اخبارات کے لئے جاری کیا جاتا ہے تو اس میں سے تقریر کے کچھ حصے غائب ہوتے ہیں۔ پتہ چلا کہ کسی معمولی بیوروکریٹ نے محمد علی جناح سے بھی زیادہ حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی صوابدید پر یہ کارنامہ کردکھایا اور اس پر گورنر جنرل محمد علی جناح کو ذاتی نوٹس لینا پڑا تب جا کر پورا متن بحال ہوا۔

جناح صاحب کی وفات کے ایک برس بعد محترمہ فاطمہ جناح ریڈیو پاکستان کے لئے اس شرط پر تقریر ریکارڈ کرواتی ہیں کہ یہ تقریر سنسر نہیں ہوگی۔ لیکن جب تقریر نشر ہوتی ہے تو وہ حصہ غائب ہوتا ہے جس میں محترمہ نے لیاقت علی خان حکومت پر تنقید کی تھی۔ یہ سنسر کسی اور کے نہیں ریڈیو پاکستان کے منتظمِ اعلی زیڈ اے بخاری کے صوابدیدی حکم پر ہوتا ہے اور محترمہ فاطمہ جناح کو ذاتی طور پر احتجاج کرنا پڑتا ہے۔

پینسٹھ کی جنگ کے بعد ریڈیو پاکستان سے فراق گورکھپوری کی غزل اس لئے نشر نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ وہ ہندوستانی شاعر تھے۔لیکن میر، انیس، غالب اور اقبال کے کلام پر پابندی نہیں تھی حالانکہ یہ چاروں بھی ہندوستانی شاعر تھے۔آج بھی سرکاری ریڈیو اور ٹی وی پر اس بات کو ترجیح دی جاتی ہے کہ چین، ایران اور افغانستان کا نام تو لے لیا جائے لیکن بھارت کو ’ایک پڑوسی ملک‘ ہی کہا جائے۔

ضیا الحق کے زمانے میں ہر انفارمیشن آفیسر ایک چھوٹا ضیا الحق بنا ہوا تھا۔احتیاط کا یہ عالم تھا کہ ’بادلوں نے آسمان کی عریانی کو ڈھانپ لیا‘ اور ’ایک عورت ننگے پاؤں تھانے پہنچی‘ جیسے جملے بھی سنسر ہوجاتے تھے۔

پینسٹھ کی جنگ کے بعد پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش یہ کہہ کر روک دی گئی کہ پاکستان کو بھارت کی ثقافتی یلغار سے بچانا ہے۔اسکے بعد ہر فوجی و غیر فوجی حکومت نے اس پالیسی کو برقرار رکھا۔ لیکن جب پاکستان کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کے محافظ ادارے کے سربراہ پرویز مشرف نے بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دے دی تو ثقافتی یلغار سے بچنے کا فلسفہ بھی دم توڑ گیا۔

لیکن جو سنسر بورڈ پچھلے پانچ، چھ برس سے بھارتی فلموں کو بے دھڑک نمائش کی اجازت دے رہا تھا۔اسی سنسر بورڈ نے آزادی اظہار کی علمبردار موجودہ حکومت کے دور میں ایک بھارتی فلم ’تیرے بن لادن‘ کو یہ کہہ کر روک دیا کہ اس میں بہت سے گھٹیا جملے ہیں۔اس فلم میں اسامہ بن لادن کا مذاق اڑایا گیا ہے جس سے تشدد بھڑک سکتا ہے۔ اور اس میں پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی تضحیک کی گئی ہے۔

اس سے چار باتیں ثابت ہوتی ہیں۔اول یہ کہ اب تک پاکستان میں جتنی بھی بھارتی فلموں کو نمائش کی اجازت ملی ہے وہ انتہائی شائستہ اور گھریلو فلمیں ہیں۔ دوم پاکستان اسوقت انتہائی پرامن ملک ہے اور ’تیرے بن لادن‘ کی نمائش سے یہاں کا امن برباد ہو سکتا ہے۔سوم یہ کہ پاکستان میں سیکورٹی اداروں کی کارکردگی اتنی مثالی ہے کہ لوگ ان سکیورٹی اداروں کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کریں گے اور ایسا کرنے والے کو سنگسار کردیں گے۔ چہارم یہ کہ اسامہ بن لادن کا مذاق اڑانا دراصل عوامی جذبات کا مذاق اڑانا ہے۔

یہ درست ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت مذہبی اقدار کے معاملے میں اتنی حساس ہے کہ سلمان رشدی ہو کہ ڈینش کارٹونسٹ یا پھر فیس بک، جو بھی مذہبی جذبات کی توہین کرتا ہے پاکستانی اس کا شدت سے جواب دیتے ہیں۔ لیکن وہ کونسا پاکستان ہے جو گوگل سرچ انجن کے حالیہ سروے کے مطابق فحش مواد پر مبنی ویب سائٹس دیکھنے والے ٹاپ ٹین ممالک میں بھی اول نمبر پر ہے؟

اگر ’تیرے بن لادن‘ میں اسامہ بن لادن کے مذاق پر اعتراض کرنے والا سنسر بورڈ درست ہے تو پھر وہ کون سنسر باز تھا جس نے محمد علی جناح کی تقریر بھی قومی یکجہتی اور جذبات کے لیے ناموزوں جانتے ہوئے سنسر کردی تھی؟

اسی بارے میں