کم عمر لڑکی کی شادی پر مقدمہ

بچوں کی شادی
Image caption کمسن لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ لڑکے والے اسے مارتے پیٹتے رہتے ہیں

ایک شخص کی غربت اور تنگ دستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئٹہ میں ایک افغان مہاجر نے بیس ہزار روپے کے عوض اس کی آٹھ سالہ بچی کی شادی اپنے نوسالہ بیٹے سے دو سال قبل کرا دی۔ بچی ساس اور سسر کے ظلم و تشدد سے تنگ آ کر گھرسے تھانے پہنچ گئی۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بچی کے سسر کو حراست میں لے لیا ہے۔

مذکورہ شخص کا کہنا ہے کہ اس نے لڑکی کے والد کو ایک لاکھ روپے ادا کیے تھے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق اتوار کے روز ایک آٹھ سالہ بچی شبانہ گھر سے بھاگ کراپنے ہمسائے کے گھر پنہچ گئی جہاں سے انہوں نے اس کو سیٹلائٹ ٹاؤن پولیس تھانہ پہنچا دیا۔

پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس آٹھ سالہ شبانہ نے بتایا کہ دوسال قبل ان کے والد تیمور شاہ نے دکان کھولنے کے لیے گل ضمیر نامی شخص سے بیس ہزار روپے قرض لیے تھے اور جب والد قرض ادا نہیں کرسکے تو’گل ضمیر نے مجھے اپنے گھر روک لیا اور میرے والدین افغانستان کے علاقے مزار شریف چلے گئے۔ اس کے بعد گل ضمیر نے میری شادی اپنے نو سالہ بچے نوازشریف عرف خان سے کرائی ـ جس کے بعد میری ساس اور سسر نے مجھ پر طرح طرح کے ظلم و تشدد کیے حتی کہ کئی بار انہوں نے لوہا گرم کرکے میرے پاؤں تلے رکھا۔ ان مظالم سے تنگ آگر میں گھر سے نکل کر ہمسائے کے گھر گئی تو انہوں نے مجھے تھانے پہنچادیا۔‘

Image caption لڑکے کا کہنا ہے کہ دو سال قبل اس کی شادی شبانہ کے ساتھ ہوئی تھی

شبانہ نے کہا کہ وہ سسر کےگھر نہیں جائے گی بلکہ وہ اپنے والدین کے پاس افغانستان جانا چاہتی ہے ـ

تاہم شبانہ کے سسرگل ضمیر نے بتایا کہ شبانہ کے والد تیمور شاہ کئی بار ان کے پاس آئے اور کہا کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی میرے بیٹے سے کرناچاہتے ہیں۔

’میرے بار بار منع کرنے کے باوجود اس نے اپنی بیٹی میرے گھر چھوڑ دی اور مجھ سے ایک لاکھ روپے لیکر افغانستان چلاگیا۔ اس کے بعد میں نے بچی کو یہ سوچ کر گھر میں اپنی بیٹی کی طر ح رکھا کہ جب بڑی ہوجائے گی تو بیٹے نواز شریف سے شادی کرا دونگا۔ لیکن آج صبح شبانہ گھر سے بھاگ گئی، پھر مجھے پولیس گھر سے اٹھا کر تھانے لے آئی۔‘

گل ضمیر کے مطابق دو سال قبل شبانہ اور اس کے بیٹے نواز شریف کا نکاح ہوا تھا۔

اس موقع پر گل ضمیر کا بیٹا نواز شریف بھی اپنے والد کے ساتھ ننگے پاؤں تھانے میں موجود تھا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ شبانہ اسکی کیا لگتی ہے تواس نے جواب دیا: ’شبانہ میری بیوی ہے اور دو سال قبل میر ی اس کے ساتھ شادی ہوئی تھی۔ اس دن میں نے سفید کپڑے، کالے بوٹ اور سر پر ٹوپی پہنی تھی۔ میر ے بھائی نے میرے گلے میں (امیل ) یعنی ہار پہنایا تھا جبکہ میری ساس نے مجھ سے کہا تھا کہ آج تم (زوم ) یعنی دولہا بن گئے ہو۔ اس رات ہمارے گھر بہت سے مہمان آئے تھے، انکی خاطر تواضع چاول اور گوشت سے بنے ہوئے کھانے سے کی گئی تھی۔ شبانہ نے اس روز سرخ رنگ کے کپڑے پہنے تھے۔‘

اس سلسلے میں ایس پی سریاب شاہنواز نے بتایا کہ دونوں خاندانوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔ انہوں نے کہا کیونکہ لڑکی کے والدین یہاں موجود نہیں ہیں اس لیے پولیس اب ملزم گل ضمیر کے خلاف کم عمری میں بچوں کے نکاح اور شادی کرانے کا مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کر رہی ہے۔

اسی بارے میں