اورکزئی: بمباری میں بارہ شدت پسند ہلاک، آٹھ زخمی

فائل فوٹو
Image caption بالائی اورکزئی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جیٹ طیاروں سے کارروائی میں بارہ شدت پسند ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔

ایک دوسرے واقعے میں خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں ایک دھماکے سے سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق اتوار کی صبح سکیورٹی فورسز نے بالائی اورکزئی ایجنسی کے علاقے شکر تنگی، شکر کوٹ اور راوٹ میلہ کے مقام پر جنگی طیاروں سے حملے کیے۔

سرکاری حکام نے بتایا ہے کہ اس کارروائی میں بارہ شدت پسند ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے جب کہ شدت پسندوں کے چار ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ بالائی اورکزئی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہیں۔

سنیچر کو بھی بالائی اورکزئی ایجنسی سے حکام نے بتایا تھا کہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے گئے ہیں جس میں عسکریت پسندوں کا جانی نقصان ہوا تھا۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کا کہنا ہے کہ لوئر اورکزئی ایجنسی میں فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے نے دو ماہ پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہاں بیشتر علاقے شدت پسندوں سے صاف کر دیے گئے ہیں لیکن اپر اورکزئی ایجنسی میں کشیدگی برقرار ہے۔

دریں اثنا خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں جانزئی چوکی کے قریب نصب بم کے دھماکے سے سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اہلکار اپنی ڈیوٹی کے بعد واپس جا رہے تھے کہ اس دوران دھماکہ ہوا ہے۔

خیبر ایجنسی میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران چھ سے زیادہ تشدد کے واقعات پیش آچکے ہیں جن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملوں کے علاوہ لنڈی کوتل میں زیارت اور مسجد کے قریب دھماکے اور تیرہ وادی کے جمعہ بازار میں دھماکے نمایاں ہیں۔

اسی بارے میں