پاک افغان ٹرانزٹ معاہدے پر دستخط

پاک افغان تجارت کا معاہدہ
Image caption پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے پر بہت عرصے سے بات چیت ہو رہی تھی

امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کے پاکستان کے دورے کے دوران پاکستان اور افغانستان نے ایک راہداری کے اہم تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

اس معاہدے کے مطابق افغانستان کے ٹرک پاکستان کے رستے ہندوستان تک اپنا مال لے کے جا سکیں گے۔ اس معاہدے کی رو سے چاروں طرف زمین سے گھرے ہوئے افغانستان کو دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے پاکستان کی بندرگاہ تک رسائی بھی ملے گی۔

دونوں ممالک کی پارلیمان سے توثیق کے بعد ہی یہ معاہدہ قابلِ عمل ہو گا۔

اس معاہدے پر پاکستان کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔

پاکستان کی خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق معاہدے کے مطابق صرف افغانستان کا مال پاکستان سے ہوتا ہوا ہندوستان جائے گا لیکن ہندوستان واہگہ کے ذریعہ کوئی بھی شے افغانستان کو برآمد نہیں کر سکے گا۔ اس کے بدلے میں افغانستان پاکستان کو وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی کے لیے زمینی راستہ استعمال کرنے دے گا۔

Image caption افغانستان جانے والا اکثر مال پاکستان سے ہو کر وہاں پہنچتا ہے

کابل میں بی بی سی کی نامہ نگار لز لوسیٹ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے بہت سال لگے ہیں اور اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان تعلقات بحال کرنے میں کتنی سنجیدگی سے کوشش کر رہے ہیں۔

افغانستان کے مالی امور کے وزیر عمر زخیلوال اسے ایک تاریخی معاہدہ قرار دیتے ہے۔

نامہ نگار کے مطابق یقیناً اس معاہدے کی تکمیل کے مراحل میں بہت مسائل درپیش آئیں گے لیکن افغان وزیر زخیلوال نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یہ معاہدہ ایک اشارہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہت تیزی سے بہتر ہو رہے ہیں۔

معاہدے پر دستخط کیے جانے کی تقریب کے بعد امریکہ کے پاکستان اور افغانستان کے متعلق خصوصی ایلچی رچرڈ ہولبروک نے کہا کہ ’شروع ہی سے ان کی (امریکی) انتظامیہ کا مقصد اسلام آباد اور کابل کو قریب لانا تھا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں ممالک قریب آ رہے ہیں۔‘

پاکستان کے اطلاعات اور مواصلات کے وزیر قمر الزمان کائرہ نے ایک پاکستانی نجی ٹی وی چینل پر معاہدے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ اس معاہدے سے ہندوستان اپنا مال پاکستان کے ذریعے افغانستان برآمد کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ صرف افغان مال ہی واہگہ کے ذریعے ہندوستان جائے گا۔

اسی بارے میں