’شدت پسندوں کے خلاف مزید اقدامات ضروری‘

ہیلری کلنٹن اور یوسف رضا گیلانی
Image caption ہیلری کلنٹن نے کہا کہ انہیں ہر وقت اس بات کا خدشہ لاحق رہتا ہے کہ امریکہ کے خلاف حملہ پاکستان کے اندر سے ہو سکتا ہے

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات میں پیش رفت ہوئی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان شدت پسندوں کے خلاف مزید اقدامات کرے گا۔

یہ بات انہوں نے اتوار کے روز اسلام پہنچنے پر بی بی سی کی نامہ نگار کِم غطاس کے ساتھ خصوصی بات چیت میں کہی۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے جاری مذاکرات کا دوسرا دور پیر کو اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے اور امریکی وزیر خارجہ اسی سلسلے میں پاکستان کا دورہ کر رہی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں زیادہ اعتماد کا عنصر دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ کسی قسم کی خوش فہمی میں نہیں ہیں کیونکہ ابھی بھی کچھ ایسی معاملات ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ہیلری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ پاکستان شدت پسندوں کے خلاف مزید موثر اقدامات کرے گا۔

افغانستان میں پاکستانی وساطت سے طالبان کے ساتھ کرزئی حکومت کے مصالحانہ رابطوں پر ہلری کلنٹن نے اس تاثر کو رد کردیا کہ دونوں ملک ناگزیر امریکی فوجی انخلاء کے پیش نظر خود ہی طالبان کے ساتھ رابطے کررہے ہیں۔ امریکی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ کوئی بھی مصالحت سخت شرائط کے تحت ہی ممکن ہوگی۔

ہلری کلنٹن نے کہا کہ ’افغان سیاسی نظام میں شرکت کے کسی بھی خواہشمند فرد یا گروپ کو تشدد کو خیرباد کہنا ہوگا، افغان آئین کی پاسداری کرنا ہوگی، القاعدہ سے تعلق ختم کرنا ہوگا کیونکہ القاعدہ دہشت گردی کی کارروائیوں کا مرکزی کردار ہے اور ہم اس سے تعلقات کی اجازت نہیں دے سکتے اور مصالحت کے خواہشمندوں کو افغان خواتین کے حقوق کی بھی ضمانت دینا ہوگی۔‘

امریکہ پاکستان پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ افغان طالبان سے منسلک حقانی نیٹ ورک کے خلاف مزید کارروائی کرے گا جو افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے خلاف سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ حقانی نیٹ ورک کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرانے کے لیے اس معاملے کے قانونی پہلوؤں پر غور کر رہا ہے۔

ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ انہیں ہر وقت اس بات کا خدشہ لاحق رہتا ہے کہ امریکہ کے خلاف حملہ پاکستان کے اندر سے ہو سکتا ہے اور اس صورت میں اس کے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر تباہ کن اثرات رونما ہوں گے۔

انہوں نہ کہا: ’ابھی بھی ایسے اضافی اقدامات ہیں جو ہماری خواہش ہیں اور ہم پاکستان سے کہہ رہے ہیں کہ وہ کیے جائیں کیونکہ کسی کے بھی ذہن میں اس بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اگر امریکہ پر ہونے والے کسی حملے کے شواہد پاکستان تک پہنچے تو پاکستان کے ساتھ تعلقات پر اس کے بہت تباہ کن اثرات ہوں گے۔‘

اپنے دورۂ پاکستان کے دوران ہیلری کلنٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاریخی طور پر پائی جانے والی بے اعتمادی کی فضا کو کم کرے تاکہ دونوں ممالک کے لیے پائیدار امن حاصل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اب زیادہ بھروسہ اور کھلا پن ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مسائل بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اسلامی شدت پسندوں کو قابو کرنے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

ہیلری کلنٹن پاکستان کے دورے کے پہلے مرحلے پر اتوار کو وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف علی زراداری سے ملاقات کریں گے جبکہ پیر کو دونوں مالک کے درمیان باضابط مذاکرات ہوں گے جس میں دونوں ممالک کے وزراہ خارجہ کے علاوہ امریکی اور پاکستانی حکام شرکت کریں گے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس سال مارچ میں واشنگٹن میں سٹریٹیجک مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا جس میں پاکستان میں سماجی ترقی کے فروغ کے لیے دس شعبوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

ان شعبوں میں توانائی، پانی، زراعت، پانی، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، تجارت، صحت اور تعلیم کے شعبے شامل ہیں ۔

ان شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کے حکام کے درمیان جون اور جولائی میں اسلام آباد میں دونوں ممالک کے ورکنگ گروپ کے تین اجلاس ہوئے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے دورے پاکستان کا مقصد ان ملاقاتوں کے نتائج کا جائزہ لینا ہے۔

پاکستان کے وزرات خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ پہلے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات دہشت گردی اور سلامتی کے امور تک محدود تھے لیکن اب ان تعلقات میں وسعت آئی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان جن دس شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں دو طرفہ تعاون بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے دورہ پاکستان کا مقصد پاکستان اور امریکہ کے حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتائج کا جائزہ لینا ہے اور اس کی روشنی میں مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔

عبدالباسط نے کہا کہ بنیادی طور پر اس دورے کا مقصد یہی کہ کس طرح ہم دونوں ممالک اپنے باہمی تعلقات کو لوگوں کے مفاد میں بنائیں تاکہ امریکی کی طرف سے مختلف شعبوں میں امداد کا فائدہ براہ راست لوگوں کو ہو۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دو سال میں امریکی اور پاکستان کے تعلقات میں بڑی گرم جوشی آئی ہے اور ہم ایک طویل مدتی شراکت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں