وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی رائے

کاککاکا اکاکاک
Image caption قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والےاکثر لوگ کہتے ہیں کہ ڈرون حملوں سے ہلاک ہونے والے زیادہ تر شدت پسند ہیں۔

پاکستان کے سات قبائلی ایجنسیوں میں سب سے زیادہ ڈرون حملے وزیرستان میں ہی ہو رہے ہیں۔ ان حملوں کے بارے میں وزیرستان کے دونوں قبائلی علاقوں کے اکثر لوگوں کی رائے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان علاقوں میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر شدت پسند ہیں۔ اسی بنا پر علاقے کے اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ڈرون حملے جاری رہنے چاہیئیں کیونکہ ان کا نشانہ شدت پسند ہی ہوتے ہیں۔

وزیرستان کے لوگوں کی رائے کے مطابق ان حملوں کو وہاں کے رہائشی اسی بنا پر اپنے لیے خطرہ محسوس نہیں کرتے کیونکہ اور یہ حملے اپنے ہدف کو ہی نشانہ بناتے ہیں۔ وزیرستان کے ملحقہ اضلاع میں پہچنے والے وزیرستان کے رہائشیوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واضع کیا کہ ڈرون حملوں سے عام شہریوں کو خطرہ نہیں ہے اور اگر کسی کو ان سے خطرہ ہے وہ یا تو شدت پسند ہیں یا ان کے حامی۔

تاہم بعض لوگ ان حملوں کے مخالف بھی ہیں لیکن مخالفین کی بھی دو طرح کی آراء ہیں۔ ایک وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ان حملوں میں عام شہری ہلاک ہوتے ہیں جبکہ دوسرے کہتے ہیں یہ حملے زیادہ تر اپنے ہدف یعنی شدت پسندوں ہی کو نشانہ بناتے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے رہائشی ضیاءالدین کہتے ہیں کہ حملے صحیح کام کر رہے ہیں اور جو عام لوگ ہلاک ہوئے ہیں وہ طالبان کے ساتھ رہتے تھے لیکن باقی عام شہری ان حملوں میں محفوظ رہتے ہیں۔ ’یہ حملے اپنے ہدف ہی کو نشانہ بناتے ہیں اور دہشت گردوں ہی کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔‘

شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے رہائشی شیر احمد وزیر کا کہنا ہے کہ وہ ان ڈرون حملوں کی حمایت نہیں کرتے کیونکہ ان حملوں میں عام لوگوں کا نقصان ہوتا ہے۔’ایک برس پہلے خوش عالی میں ایک ڈرون حملہ ہوا تھا، اس میں میرے دوست سمیت کئی بےگناہ افراد مر گئے تھے۔‘

جنوبی وزیرستان کے ایک اور رہائشی حفیظ اللہ کا کہنا تھا کہ وہ ڈرون حملوں کی اس وجہ سے مخالفت کرتے ہیں کہ ان کے نتیجے میں شدت پسندی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مرتبہ اس وجہ سے بھی عام لوگ ہلاک ہوتے ہیں کیونکہ طالبان ان کے گھروں میں چھپ جاتے ہیں اور پھر وہاں ڈرون حملے کی صورت میں عام لوگوں کا نقصان ہوتا ہے۔

وانا کے رہائشی سعید رحمان وزیر کا کہنا ہے کہ وہ ڈرون حملوں کی مشروط حمایت کرتے ہیں کیونکہ اگر انہیں امریکی ڈرون حملوں اور پاکستانی فوج کے آپریشن میں سے کسی ایک کا مجبوراً انتحاب کرنا پڑے تو وہ ڈرون حملوں کا انتخاب کریں گے۔ سعید رحمان وزیر کا کہنا تھا کہ طالبان کو روس کے خلاف لڑائی میں پاکستان اور امریکہ نے تیار کیا اور روس کی شکست کے بعد ان کا صفایا نہیں کیا گیا۔

’مصیبت یہ ہے کہ طالبان کو اب بھی امریکہ اور پاکستان اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ان کا مکمل صفایا نہیں کیا جا رہا۔ ان پر جب حملے ہوتے ہیں تو عام لوگوں کا بھی نقصان ہوتا ہے لیکن یہ نقصان پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں ہونے والے نقصان سے بہت کم ہے۔‘

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے شخص بہر وزیر ڈرون حملوں کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ پاکستانی فوج کے آپریشن سے بہت بہتر ہیں کیونکہ پاکستانی فوج جب علاقے میں آتی ہے تو وہ عورتوں، مردوں کو نہیں دیکھتی سب کو اپنے بوٹوں تلے رکھتی ہے۔ محمد قذافی محسود کہتے ہیں کہ وہ ڈرون حملوں کی حمایت نہیں کرتے کیونکہ پاکستان کو اپنے دہشت گردوں سے خود ہی نمٹنا چاہیے۔