افغان راہداری معاہدہ، امکانات اور خدشات

ہلیری کلنٹن، پاک افغان منسٹرز
Image caption ماہرین کہتے ہیں کہ نیا معاہدہ پرانے معاہدے کی ہی ایک بہتر نقل ہے۔

طویل گفتگو اور مذاکرات کے بعد طے پانے والے پاک۔افغان تجارتی راہداری معاہدے نے پاکستان میں اس معاہدے کے فریقوں کو مطمئن تو کر دیا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج اس پر عمل کرنا ہو گا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس سے پہلے بھی راہداری کا معاہدہ موجود تھا اور ماہرین کہتے ہیں کہ نیا معاہدہ پرانے معاہدے کی ہی ایک بہتر نقل ہے۔اس نئے اور پرانے معاہدے میں فرق اس پر عمل در آمد کے طریقۂ کار کیا ہے۔

معاہدے کی جو جزوی تفصیلات میڈیا کو جاری کی گئی ہیں ان کے مطابق کراچی سے افغانستان کے لیے سامان لے جانے والے ہر ٹرک پر نگرانی کا آلہ (ٹریکنگ ڈیوائس) نصب کی جائے گی تاکہ اس سامان کی افغانستان پہنچنے کی تصدیق ہو سکے۔

مزید یہ کہ افغان ٹرکوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن ہر ٹرک کے عوض اس کے مالک سے ٹرک کی مالیت اور سامان جتنی مالیت کا ضمانتی چیک وصول کیا جائے گا جو اسے ٹرک کے افغانستان پہنچ جانے کی تصدیق کے بعد واپس کر دیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس شق پر عمل یقینی بنا دیا گیا تو اس معاہدے سے پاکستان اور افغانستان کو خاصا فائدہ ہو سکتا ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر انجم نثار جو افغان راہداری کے معاہدے کے بارے میں ماضی میں خاصے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں اس معاہدے سے اصولی طور پر خاصے مطمئن ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ اس پر روح کے مطابق عمل کروانا ہے۔

’یہ کاغذ پر اور سننے میں تو مثالی معاہدہ لگ رہا ہے لیکن ہمیں عملی طور پر دیکھنا ہے کہ اس پر عمل درآمد کس حد تک کیا جاتا ہے اور پاکستان میں افغانستان کے لیے مختص مصنوعات کی سمگلنگ اور فروخت رکتی ہے کہ نہیں۔‘

انجم نثار کا کہنا تھا معاہدے کی تفصیلات جب سامنے آئیں گی تو اس میں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ افغانستان کو جانے والے مال کی فہرست کتنی حقیقت پسندانہ ہے۔

’پرانے معاہدے میں کالی چائے کی پتی اور ایسی دیگر کئی اشیا افعان ٹریڈ میں شامل تھیں جن کا افغانستان میں استعمال ہوتا ہی نہیں ہے۔ ان چیزوں کو اس معاہدے سے نکالنا ہو گا۔‘

سابق مشیر خزانہ اور معاشی ماہر ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق اس معاہدے میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی بندرگاہ بھارت پہلے بھی استعمال کرتا تھا اور افغانستان کا مال پہلے بھی بھارت جا رہا تھا۔

’وسطی ایشیائی ریاستوں تک پاکستانی مصنوعات کی ترسیل کا معاہدہ بہت دور کی بات ہے۔ افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر مستقبل قریب میں پاکستانی تاجروں کا اس راستے تجارت شروع کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘

سلمان شاہ نے کہا کہ پاکستانی بندرگاہ استعمال ہونے کے باعث پاکستان کو کچھ آمدن ضرور ہو گی لیکن وہ اس نقصان سے بہت کم ہے جو افغان کے لیے بھیجی جانے والی مصنوعات کی پاکستان میں سمگلنگ کے باعث حکومت اور صنعت کو ہوتا ہے۔