’عدلیہ اور بار میں فاصلہ رہنا چاہیئے‘

عاصمہ جہانگیر
Image caption ’عدلیہ کو سیاسی طور پر آگاہ تو ہونا چاہیے لیکن سیاست کا حصہ بالکل نہیں بننا چاہیے‘

انسانی حقوق کمیشن کی سابق چئرپرسن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدارتی امید وار عاصمہ جہانگیر نے توقع ظاہر کی ہےکہ اعلی عدلیہ سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں مداخلت نہیں کرے گی۔

بی بی سی کی نامہ نگار مناء رانا کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اگرچہ عدلیہ اور بار کا گہرا تعلق ہوتا ہے مگر یہ دونوں الگ الگ ہیں اور ان کے درمیان ایک خاص فاصلہ رہنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نظر میں ان کے حریف گروپ کا عدلیہ کے ساتھ مناسب فاصلہ نہیں ہے اور یہ نہ تو عدلیہ کے لیے صحت مندانہ بات ہے اور نہ بار ایسوسی ایشنز کے لیے۔

عاصمہ جہانگیر کہتیں ہیں کہ اس کے باوجود انہیں توقع ہے کہ عدلیہ کسی بھی طریقے سے سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں مداخلت نہیں کرے گی اور وہ یہ بھی امید رکھتی ہیں کہ ان کی یہ توقع آخر تک برقرار رہے گی۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ ایک آزاد بار ایسوسی ایشن سے عدلیہ کا اعتماد بھی بڑھے گا اور اسے ایک اطمینان ہوگا۔

عاصہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتیں کہ اس وقت جو بار ایسوسی ایشنز ہیں وہ آزادانہ حثیت میں کام کر رہی ہیں اور اس سلسلے میں ان کا بار کے رہنماؤں سے اختلاف بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز کو عدلیہ کی انسانی ڈھال کے طور پر کردار ادا نہیں کرنا چاہیئے۔

’وکلاء کا ایک اہم کردار ہے وہ ہے ہر ایسے عمل پر نظر رکھنا جو صحیح نہ ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے پر تنقید کی تو ان کی شدید مخالفت کی گئی اور ان پر تہمتیں لگنا شروع ہو گئیں اور انہیں حکومت کا ایجنٹ تک کہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ کو ایک مقدس گائے بنا دیا جائے اور وکلاء کو آزادانہ اظہار رائے کا حق نہ دیا جائے اور بار ایسوسی ایشن میں وکلاء کی آواز کی حوصلہ شکنی کی جائے تو یہ بہت تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ یہی عوامل تھے جن کے سبب انہوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔

عاصمہ جہانگیر نے اس تاثر کو بھی مکمل طور پر رد کیا کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت سے انتخاب لڑ رہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کبھی کسی سیاسی جماعت کی رکن نہیں رہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بہت افسوس ناک بات ہے اور سرا سر زیادتی ہے کہ آج کل بار ایسوسی ایشنز کو وفاقی یا صوبائی حکومتوں سے جو امداد مل رہی ہے اسے ان کے انتخاب کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔

’نہ تو میں کچھ لے رہی ہوں اور نہ ہی میرے کسی حمایتی کو کچھ ملا ہے۔ یہ بالکل بے بنیاد باتیں ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ سپریم کورٹ کے انتخابات پیسوں سے نہیں جیتے جا سکتے۔‘

انہوں نے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز کو امداد کی ضرورت ہے لیکن اس کا یہ مقصد نہیں کہ وہ کسی کے طوطے بنیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ حکومتوں پر تنقید کی ہے اور اب بھی حکومت پر تنقید کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ جمہوری دور میں ہمیشہ عدلیہ نے اپنے دائرہ کار سے نکل کر کام کیا ہے اور یہ کوئی بری بات نہیں ہے اور جمہوریت میں اس کی اجازت بھی ہوتی ہے لیکن اگر عدلیہ ایسا رویہ اختیار کرے جس میں وہ ہر کردار خود ہی نبھانا چاہے تو یہ صحیح نہیں ہوتا۔

عاصمہ جہانگیر نے کچھ عرصہ پہلے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف کے ایک سیاسی بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کو سیاسی طور پر آگاہ تو ہونا چاہیے لیکن سیاست کا حصہ بالکل نہیں بننا چاہیے۔

اسی بارے میں