بدر: احتساب عدالت سے بری

فائل فوٹو، جہانگیر بدر
Image caption لاہور کی احتساب عدالت نے گزشتہ برس دسمبر میں جہانگیر بدر کے خلاف ریفرنس دوبارہ سماعت شروع کی تھی

لاہور کی احتساب عدالت نے پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل سینیٹر جہانگیر بدر کو بدعنوانی کے الزام میں دائر ایک ریفرنس سے بری کر دیا ہے۔

جہانگیر بدر پر الزام تھا کہ انہوں نے وفاقی وزیر پیڑولیم کی حیثیت سے باون افراد کو قواعد وضوابط کے برعکس ملازمتیں دیں اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے۔

احتساب عدالت کے جج نے عدم ثبوت کی بناء پر جہانگیر بدر کو بری کرتے ہوئے ان کے خلاف ریفرنس خارج کر دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ قومی احتساب بیورو یعنی نیب جہانگیر بدر کے خلاف کوئی ایسی شہادت پیش کرنے میں ناکام رہا جس سے ان کے خلاف لگائے الزامات ثابت ہوسکیں۔

جہانگیر بدر اس یفرنس میں ضمانت پر تھے اور جب عدالت نے ان کے خلاف ریفرنس پر فیصلہ سنایا تو عدالت میں موجود تھے۔

پیر کو جہانگیر بدر اور نیب کے وکلاء نے ریفرنس کے حق اور مخالفت میں اپنے اپنے حتمی دلائل دیئے جس کے بعد عدالت نے ریفرنس پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو چند گھنٹوں کے بعد سنا دیا گیا۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق نے بتایا کہ قومی احتساب بیورو نے جہانگیر بدر کو سنہ دو ہزار میں گرفتار کر کے ان کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزامات میں دو الگ الگ ریفرنس دائر کیے تاہم سابقِ صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے اکتوبر سنہ دوہزار سات میں قومی مفاہمتی آرڈیننس یا این آر او کے اجرا کے بعد جہانگیر بدر کے خلاف یہ دونوں ریفرنس ختم ہوگئے تھے۔

سپریم کورٹ کے حکم پر جب این آر او کے تحت ختم کیے گئے ریفرنسوں کو دوبارہ بحال کیا تو جہانگیر بدر کے خلاف وہ دونوں ریفرنس بھی بحال ہوگئے جو نیب نے ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے تحت دائر کیے تھے۔

لاہور کی احتساب عدالت نے گزشتہ برس دسمبر میں جہانگیر بدر کے خلاف ریفرنس پر دوبارہ سماعت شروع کی اور پیر کو ریفرنس پر سماعت مکمل ہونے پر اس پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جہانگیر بدر نے اپنے خلاف بدعنوانی کے الزامات میں دائر دو الگ الگ ریفرنسوں کے سلسلہ میں جیل بھی رہے اور جیل سے ہی اکتوبر دوہزار دو میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لیا تاہم وہ کامیاب نہ ہوسکے۔

جہانگیر بدر کے خلاف غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں ابھی ایک ریفرنس ابھی احتساب عدالت کے سامنے زیر سماعت ہے ۔

اسی بارے میں