اعلٰی تعلیم کمیشن کے سربراہ کے بھائی رہا

Image caption اعلیٰ تعلیم کمیشن کے سربراہ کے بھائی فاروق لغاری، جنھیں رہا کردیا گیا

پاکستان کے صوبہ سندھ ایک سرکاری افسر فاروق لغاری کو بدعنوانیوں کے سدباب کے لیے قائم عدالت نے ضمانت پر رہا کردیا ہے۔

وہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیم کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر جاوید لغاری کے چھوٹے بھائی ہیں جن کا ادارہ اسمبلی ارکان کی تعلیمی اسناد کے درست ہونے کا جائزہ لے رہا ہے۔

رہائی سے قبل ڈاکٹر جاوید لغاری نے اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی ہے، اس ملاقات کے بعد حیدر آباد میں فاروق لغاری کی رہائی عمل میں آئی۔

کراچی سے نامہ نگار نثار کھوکھر کا کہنا ہے کہ فاروق لغاری کی گرفتاری کے بارے میں پاکستان کے میڈیا میں کہا جارہا ہے کہ انہیں ان کے بڑے بھائی اور چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن جاوید لغاری پر دباؤ ڈالنے کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔

فاروق لغاری کی گرفتاری کےخلاف حزب اختلاف کی بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف نے تشویش کا اظہار کیا تھا، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر سی پی کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن نے بھی ان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دباؤ ڈالنے کے ایسے طریقے آمرانہ دور میں اپنائے جاتے ہیں۔ جمہوری دور میں ان کی گنجائش نہیں ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پیر کے روز مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف سے فون پر بات کی ہے۔

وزیراعظم نے نواز شریف کو وزیراعلی سندھ سے اپنی بات چیت سے آگاہ کیا اور کہا کہ انہیں کسی قسم کی انتقامی کاروایوں سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ٹنڈوالہیار اور ٹنڈو محمد خان اضلاع کے سابق ضلعی رابطہ افسر فاروق لغاری کو حیدرآباد سے بارہ جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جس کے بعد بدعنوانیوں کے ایک مقدمے میں ان کی ضمانت ہونے کے بعد دوسرے مقدمے میں انھیں دوبارہ گرفتار کر لیاگیا تھا۔

فاروق لغاری کے بڑے بھائی طارق لغاری نے بی بی سی کو سنیچر کو بتایا تھا کہ بعض دوستوں نے انہیں یقین دلوایا ہے کہ ان کے بھائی کو پیر یا منگل کے دن رہا کردیا جائیگا۔

فاروق لغاری نے اپنی رہائی کے بعد میڈیا کو بتایاکہ انہیں بعض ایسے مقدمات میں گرفتار کیا گیا جن کا ریکارڈ دیکھنے کے بعد ہی وہ کچھ کہہ سکیں گے۔انہوں نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا کہ انھیں ان کےبڑے بھائی جاوید لغاری پر دباؤ ڈالنے کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔