’ایٹمی توانائی کی فراہمی پر مذاکرات جاری‘

ہیلری اور قریشی

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ پاکستان میں توانائی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے امریکہ پاکستان کے ساتھ پر امن مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی کی فراہمی پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔

یہ بات انہوں نے پاکستانی وزیرخارجہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار آصف فاروقی نے بتایا کہ پاکستان طویل عرصے سے امریکہ کے ساتھ بھارت کی طرز پر ایٹمی توانائی کے حصول کا معاہدہ کرنے کی کوششیں کر رہا ہے لیکن یہ پہلی بار ہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی کے بارے میں بات کرنے کا اقرار کیا گیا ہے۔

شدت پسندوں کے خلاف مزید اقدامات ضروری

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی رویے میں تبدیلی کی وجہ پاکستان اور چین کے درمیان ایٹمی توانائی کے حصول کے لیے بات چیت ہے جو اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

پاکستان کی حکومت نے گزشتہ ایک برس میں چین کے ساتھ ایٹمی توانائی کے حصول کے لیے خاصی جدو جہد کی ہے جس کے نتیجے میں ذرائع کے مطابق چین پاکستان کو فوری طور پر دو ایٹمی بجلی گھر فراہم کرنے پر رضا مند ہو چکا ہے۔

چین کے ساتھ پاکستان کے ان کامیاب مذاکرات کے بعد امریکہ کی اب یہ خواہش نظر آتی ہے کہ چین کے بجائے امریکہ یہ ٹیکنالوجی پاکستان کو دے تاکہ مستقبل میں پاکستان میں ایٹمی توانائی کے منصوبوں پر قریبی نظر رکھی جا سکے۔

امریکی وزیرخارجہ پاکستان کے ساتھ گزشتہ برس شروع ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اتوار کے روز پاکستان پہنچیں تھیں۔

ان مذاکرات کا پہلا دور اسی سال مارچ میں واشنگٹن میں ہوا تھا۔ ان مذاکرات میں پاکستان میں سماجی اور معاشی ترقی کے لیے امریکی تعاون سے مختلف منصوبے شروع کرنے پر بات کی جار ہی ہے۔

پاک امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کے اختتام پر شاہ محمود قریشی کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہیلری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ اور عالمی برادری کو پاکستان اور چین کے درمیان ایٹمی توانائی کے معاہدے کے بارے میں تحفظات ہیں اور اس حوالے سے پاکستان سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔

ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ نیوکلئیر سپلائرز گروپ نے چین سے ایٹمی بجلی گھر کے حصول کے حوالے سے بعض سوالات پاکستان سے پوچھے ہیں اور پوری دنیا ان سوالوں کے جواب کا انتظار کر رہی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پرامن مقاصد کے لیے توانائی فراہم کرنے کے لیے امریکہ پاکستان کے ساتھ بات چیت بھی کر رہا ہے۔

اسی بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین سے ایٹمی توانائی کے حصول کے لیے پاکستان تمام بین الاقوامی شرائط پوری کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایٹمی بجلی گھر چلانے کا پچیس سالہ تجربہ ہے اور اس دوران کوئی حادثہ بھی نہیں ہوا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے وضاحت کی کہ چین سے حاصل کردہ ایٹمی ٹیکنالوجی ایٹمی توانائی ایجنسی کے اصولوں کے مطابق ہو گی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت معائنے کے لیے دستیاب بھی ہو گی۔

پریس کانفرنس کے دوران دفتر خارجہ میں مختلف چارٹوں کی مدد سے امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان میں امریکہ کے تعاون سے شروع کیے گیے شماجی شعبے کی بہتری کے منصوبوں کی تفصیل بیان کی۔

ہیلری کلنٹن نے کہا کہ ان منصوبوں میں بجلی اور پانی کے منصوبوں کو فوقیت دی گئی ہے۔ جبکہ تعلیم، صحت، روزگار اور معاشی ترقی کے بھی کئی منصوبے بھی زیر غور ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور پاکستانی حکومت کے درمیان اعتماد کا فقدان ختم ہو چکا ہے اور اب امریکہ پاکستانی اور امریکی عوام کے درمیان بھی اعتماد کی فضا پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات اب بات چیت کی سٹیج سے گزر کر عوامی فلاح کے لیے عملی اقدامات تک پہنچ گئے ہیں جن کا واحد مقصد پاکستانی عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اب پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتکاری کی محور پاکستانی عوام کی فلاح ہے جس کے لیے عملی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

افغانستان میں شدت پسندوں کے ساتھ مصالحت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر ہیلری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ افغان حکومت کی جانب سے شروع کی گئیں مفاہمت کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے لیکن یہ موقع صرف ان گروپس کو فراہم کیا جارہا ہے جو تشدد کا راستہ ترک کر کے افغان آئین اور قانون کی پاسداری کرنے پر تیار ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا امریکہ کی طرف سے ’حقانی نیٹ ورک‘ کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرنے سے مصالحت کی ان کوششوں کو دھچکا پہنچنے کا امکان ہے، پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان مصالحت کا عمل آگے بڑھانے پر اتفاق رائے موجود ہے اور اس بارے میں حکمت عملی لندن کانفرنس میں طے کی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افعانستان کے حوالے سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان صورتحال بہت بہتر ہو چکی ہے لیکن اس مسئلے پر ابھی مزید تبادلہ خیال کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں