فاروق لغاری: حکومتی کارروائی کی مذمت

جاوید لغاری
Image caption جاوید لغاری اس کمیشن کے سربراہ ہیں جو جعلی اسناد کی تحقیقات کر رہا ہے

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین جاوید لغاری کے رشتہ داروں کے خلاف حکومت کی طرف سے کی جانے کارروائی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنے سے باز رہے۔

کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن نے اپنے بیان میں کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ( ایچ ای سی) کے چیئرمین جاوید لغاری کے بھائی فاروق لغاری کی ایک مقدمے میں گرفتاری اور ضمانت ہونے پر دوسرے مقدمہ میں گرفتاری ، ایچ ای سی کے چیئرمین کے ملازمین کی گرفتاری جیسی کارروائیاں انتقامی عزائم کی نشاندہی کرتی ہیں کیونکہ یہ تمام کارروائیاں ایسے وقت کی جا رہی ہیں جب ہائر ایجوکیشن کمیشن ایسی تحقیقات کا حصہ ہے جن کا مقصد ارکان پارلیمان کی تعلیمی اسناد کو پرکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جاوید لغاری کے بھائی کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں کرپشن کے جن الزامات کا حوالہ دیا جارہا ہے کہ وہ دوسال سے زائد عرصہ پرانے ہیں اور ان الزامات کے ضمن میں اس وقت تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی تھی جب تک کہ ہائرایجوکیشن نے ارکان پارلیمان کی اسناد کی تصدیق کے لیے متعلقہ یونیورسٹیوں سے کوئی رابطہ قائم نہیں کیا۔

ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ یہ تمام کارروائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اس سلسلے میں پسپائی اختیار کرے۔ ان کے بقول اگرچہ زور زبردستی کے یہ ہتھکنڈے فوجی آمرتیوں کے زیرِ سایہ روزمرہ کا معمول تھے لیکن جمہوری دور حکومت میں انہیں برداشت کرنا ممکن نہیں ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین نے ایچ ای سی کے سربراہ کے رشتہ داروں کے خلاف کارروائیوں کو جابرانہ ہتھکنڈے قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور تمام جمہوری قوتوں سے اپیل کی کہ وہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے نہ صرف اپنی آواز بلند کریں بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ جمہوریت کے اعتماد کو کوئی ٹھیس نہ پہنچے۔

اسی بارے میں