کرم: سولہ شدت پسند ہلاک

فائل فوٹو، پاکستان ائر فورس
Image caption کرم ایجنسی میں گزشتہ چند ماہ سے سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف غیر اعلانیہ کارروائی شروع کر رکھی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس میں کم سے کم سولہ شدت پسند ہلاک اور گیارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

پشاور میں ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کارروائی پیر کی صبح وسطی کرم کے علاقے ڈوگر میں کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیٹ طیاروں نے بیت اللہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی جس میں ان کے دو اہم ٹھکانے تباہ کر دیےگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بمباری میں کم سے کم سولہ شدت پسند ہلاک جبکہ گیارہ زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم مقامی اور آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایسے وقت کی گئی ہے جب دو دن قبل ہی لوئر کرم ایجنسی میں پارہ چنار سے پشاور جانے والی ایک مسافر گاڑی پر حملے میں اٹھارہ مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔

علاقے میں آپریشن کی وجہ سے موبائل اور ٹیلی فون سروس معطل ہے جس کی وجہ سے آزاد ذرائع سے اطلاعات ملنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

ڈوگر کرم ایجنسی کا ایک سرحدی علاقہ ہے۔ چند سال پہلے تک اس علاقے میں اسلحے کی ایک بہت بڑی منڈی قائم تھی جہاں افغانستان سے سمگل ہونے والے ہر قسم کے چھوٹے بڑے ہتھیار دستیاب تھے۔

خیال رہے کہ اورکزئی اور کرم ایجنسیوں میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ چند ماہ سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف غیر اعلانیہ کارروائی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ حکومت کے بار بار دعوؤں کے باوجود ابھی تک کسی بھی علاقے کو مکمل طور پر عسکریت پسندوں سے صاف نہیں کیا جا سکا ہے۔

اسی بارے میں