لنک کینال کےخلاف بھوک ہڑتال

سندھ مظاہرے
Image caption قوم پرست رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پانی کی قلت کی وجہ سے سندھ کے لاکھوں ایکڑ زمین بنجر ہوگئی ہے

سندھ میں قوم پرست جماعتوں کی جانب سے بھاشا ڈیم کی منظوری اور چشمہ جہلم لنک کینال دوبارہ کھولنے کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور علامتی بھوک ہڑتالیں کی گئی ہیں۔ اس احتجاج کا اعلان سندھ پروگریسیو نیشنلسٹ الائنس نے کیا تھا۔

کراچی پریس کلب کے باہر سندھ ترقی پسند پارٹی کی جانب سے بھوک ہڑتال کی گئی۔ تنظیم کے وائس چیئرمین علی حسن چانڈیو کا کہنا تھا کہ چشمہ جہلم لنک کے ذریعے سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے جس میں وفاقی حکومت، واپڈا اور پنجاب حکومت ملوث ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 1945 کے پانی معاہدے سے لے کر آج تک کسی بھی معاہدے پر عمل نہیں کیا گیا اور ان معاہدوں میں دریائے سندھ پر کسی بھی کینال کا ذکر نہیں ملتا مگر اس کے باوجود سندھ سے مسلسل زیادتی کی جارہی ہے۔

قوم پرست رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پانی کی قلت کی وجہ سے سندھ کے لاکھوں ایکڑ زمین بنجر ہوگئی ہے اور مشکلات اتنی ہو گئی ہیں کہ لوگ پینے کے پانی کے لیے بھی پریشان ہیں۔

انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت پر تنقید کی اور اس پر سندھ کی عوام کے مفادات پر سودہ بازی کا الزام عائد کیا۔

علی حسن چانڈیو کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی دریائے سندھ پر پانی کے کسی بھی منصوبے پر احتجاج کی قیادت کرتی رہی ہے اور خود بینظیر بھٹو نے احتجاجی دھرنوں میں شرکت کی تھی مگر آج اسی پارٹی نے عوام سے آنکھیں موڑ لی ہیں۔

دوسری جانب مورو کے مقام پر قومی شاہرہ پر دھرنا دے کر سڑک کو آمدرفت کے لیے بند کردیا گیا۔ احتجاج کے دوران مورو شہر اور آس پاس کے چھوٹے بڑے شہر احتجاج میں بند ہیں۔

یاد رہے کہ سندھ میں چشمہ جہلم لنک کینال دوبارہ کھولنے کے خلاف احتجاج جاری تھا اور اس دوران مشترکہ مفادات کونسل نے بھاشا ڈیم کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے، جس پر بھی سندھ کو ماضی میں اعتراض رہا ہے۔

اسی بارے میں