سندھ میں مزاروں کے تحفظ کا مطالبہ

لعل شہباز
Image caption کانفرنس صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے شہر سیہون میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ہوئی ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ میں صوفیوں کے مزاروں کے تحفظ کے لیے اہل سنت کی بریلوی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والی جماعتوں نے ایک کانفرنس میں مطالبہ کیا ہے۔

اہل سنت کی جماعتوں اور مزاروں کے گدی نشینوں کی بین الصوبائی کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ داتا دربار پر خود کش حملے کے بعد سندھ کے بزرگ علما کے مزار دھشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ یہ کانفرنس مرکزی جماعت اہل سنت کی میزبانی میں صوفی بزرگ لعل شہباز قلندربل کے شہر سیہون میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ہوئی ہے۔

اس کانفرنس میں پیر آف بھرچونڈی میاں عبدالخالق، آزاد جموں کشمیر کے وزیر برائے مذہبی امور صاحبزادہ پیر عتیق الرحمان، جمعیت علمائے پاکستان کے صاحبزادہ ابوالخیر، میاں عبدالباقی آف ہمایوں، حسین شاہ آف قمبر اور دیگر علما نے خطاب کیا ہے۔

کانفرنس میں شریک جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما صاحبزادہ ابوالخیر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تیسری ’لبیک یا رسول اللہ کانفرنس‘ میں حکمرانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی چھوڑ دیں۔انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حکمراں دہشت گردوں کی سرکوبی اور ان کا نیٹ ورک ختم کرنے کے بجائے ان کی سرپرستی کر رہے ہیں اور ان دہشت گرد تنظیموں کو بقول ان کے بارہ بارہ کروڑ روپے کی امدا دے کر ان کی پرورش کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا ہے کہ کانفرنس میں ملک بھر سے آئے ہوئے بریلوی سنی علما نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دھشت گردوں کا آئندہ حملہ سندھ کے مزاروں پر ہو سکتا ہے۔

کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قلندر لعل شہباز، شاہ عبدالطیف بھٹائی، عبداللہ شاہ غازی، لنواری شریف اور دیگر مزاروں کے حفاظتی انتظامات سخت کیے جائیں تاکہ دہشت گرد آسانی سے حملہ نہ کر سکیں۔

صاحبزادہ ابوالخیر کے مطابق تمام بریلوی علما نے حکومت پنجاب کے بعض وزرا کی کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقاتوں اور ان کو پنجاب حکومت کی جانب سے دی گئی امداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کانفرنس میں تمام سنی بریلوی جماعتوں نے مل کر آئندہ انتخابات لڑنے کا عزم کیا ہے۔

اسی بارے میں