پاک امریکہ مذاکرات، تیاریاں، اعتراضات

ہیلری کلنٹن اور پاکستانی وزیرِ خارجہ
Image caption امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن پاکستانی وزیرِ خارجہ کے ساتھ

پاکستان میں امریکہ کے ساتھ سٹرٹیجک مذاکرات کے اسلام آباد میں آج ختم ہونے والے دوسرے دور کی تیاریوں کا سلسلہ چند ماہ سے جاری تھا۔ لیکن بعض حلقوں کو اس تیاری کے لیے بعض اجلاسوں کے فوجی ہیڈکواٹرز یعنی جی ایچ کیو میں منعقد ہونے پر اعتراض ہے۔ عسکری ذرائع ان اعتراضات کو رد کرتے ہیں۔

سرکاری و فوجی سطح پر تیرہ شعبوں میں ہونے والی تیاریوں کے لیے مشاورت کے بعض اجلاس اسلام آباد میں متعلقہ وزارتوں میں اور بعض جنرل ہیڈکواٹرز میں بھی ہوئے۔

پاکستانی انگریزی اخبار ڈان نے اتوار کو شائع ہونے والے اداریے میں یہاں تک لکھ دیا کہ یہ مذاکرات پاکستان کی طرف سے فوج ہی چلا رہی ہے۔ اخبار کے مطابق اسلام آباد میں حکومت نے قومی سلامتی اور خارجہ امور جرنیلوں کے حوالے کر دیے ہیں۔

تاہم بعض فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس جی ایچ کیو میں اس لیے منعقد ہوئے کیونکہ فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی تو وزارتوں میں جا کر ان میں شرکت نہیں کرسکتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی سربراہ کی ذاتی دلچسپی ہی تھی جس کی وجہ سے وہ ان مذاکرات میں خود شرکت کر رہے تھے۔

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق جی ایچ کیو میں منعقد ہونے والی مشاورت کا مقصد یک زباں پالیسی کی تیاری بھی تھا۔ حکومت اور فوج دونوں کیری لوگر بل والی بدمزگی سے بچنا چاہتے تھے۔ فوجی حکومت نے اس وقت پیپلز پارٹی حکومت کی جانب سے منظور کروائے گئے بل پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

سلامتی امور کے ماہر اور قائد اعظم یونیورسٹی سے منسلک کموڈور (ریٹائرڈ) خالد اقبال مذاکرات کے تنائج سے مطمئن دکھائے دیتے ہیں تاہم ان کے خیال میں اس بات میں کوئی زیادہ وزن نہیں کہ فوج ان تیاریوں میں حاوی رہی۔ ’ان تیرہ شعبوں کے اہلکاروں اور ماہرین نے اپنا اپنا ہوم ورک کیا تھا‘۔

سرکاری ذرائع کے مطابق فوجی ہیڈکواٹرز میں منعقد ہونے والے ان مشاورتی اجلاسوں میں بھی فوج نے اپنے لیے امداد یا مراعات کی بجائے ترجیح ملک کے اقتصادی مسائل کے حل کو دی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق سیاسی و فوجی قیادت اس بات پر متفق ہے کہ پانی کی کمی کے مسئلے کے حل کے لیے ترجیحی بنیاد پر امریکہ سے مدد مانگی جائے۔

لیکن کموڈور خالد اقبال کے خیال میں پانی اور کشمیر کے مسئلے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں لہذا ایک کا حل دوسرے پر منحصر ہوسکتا ہے۔ ’پاکستان کے وہ دریا جن میں پانی کی کمی کی بات کی جاتی ہے وہ زیادہ تر کشمیر سے ہوکر آتے ہیں۔ جب کمشیر کا مسئلہ حل ہوگا تو پانی کا قضیہ بھی حل ہو جائے گا۔ سندھ طاس معاہدے میں بعض ایسی کمزوریاں ہیں جن کو بھارت استعمال کرکے پاکستان کو پانی کی فراہمی میں رخنا ڈالتا رہے گا۔ اس سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جائے گا‘۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق پانی اور اقتصادی مسائل کے حل کو ترجیح دینے سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو بھی احساس ہے کہ معیشت کا پہیہ اگر چلتا رہے گا تو امن عامہ کے مسائل خودبخود دور ہو جائیں گے۔

پاکستان جہاں امریکہ سے وابستہ تقریباً ہر بات متنازع ہو جاتی ہے بعض حلقے امریکی وزیر خارجہ کے پاکستان کے دوسرے دورے کے اختتام پر ان کی فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کو بھی ٹیڑھی میڑھی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں