بی پی کا اثاثے فروخت کرنے کا فیصلہ

برٹش پیٹرولیم کمپنی نے پاکستان میں اپنے اثاثہ جات فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کمپنی نے اپنے فیصلے سے تمام ملازمین اور حکومت کو مطلع کردیا ہے۔

تیل کمپنی کی رابط کار افسر سبین جتوئی کا کہنا ہے کہ خلیج میکسیکو میں تیل کے رساؤ کو بند کرنے پر آنے والے اخراجات پورے کرنے کے لیے کمپنی دنیا بھر میں دس بلین ڈالرز کے اثاثہ جات فروخت کرنے جا رہی ہے جس میں پاکستان اور ویتنام سمیت دیگر ممالک کے کاروبار شامل ہیں۔

بی پی اہلکاروں کے مطابق کمپنی پاکستان سے اپنا کام بند کرکے جا رہی ہے مگر کاروبار موجود رہیگا اور اس کے ملازمین اپنا کام نئی کمپنی کے ساتھ جاری رکھیں گے۔انہوں نے بتایا کہ کمپنی کے تمام ملازمین نئی کمپنی کو موجودہ کنٹریکٹ کے تحت منتقل ہوجائیں گے۔

سبین جتوئی نے کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار نثار کھوکھر کو بتایا ہے کہ ان کی کمپنی پاکستان میں تیل اور گیس کی تلاش کے کام سمیت ان آئل فیلڈز کو فروخت کر رہی ہے جو پاکستان میں کمپنی کی ملکیت ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ خلیج میکسیکو کے حادثے کے بعد کمپنی کے پاکستان میں سربراہ ٹونی ہیور نے اعلان کیا تھا کہ کمپنی اخراجات اور نقصان کو پورا کرنے کے لیے دنیا بھر میں دس بلین ڈالرز کے اثاثے فروخت کریگی۔یہ اثاثے بارہ مہینے کے اندر اندر فروخت کیے جائیں گے تاکہ نقصان کا ازالہ کیا جاسکے۔

برٹش پیٹرولیم کی اہلکار کے مطابق پاکستان میں جو اثاثہ جات فروخت کیے جا رہےہیں ان میں بدین بلاک کے پانچ اضلاع،میرپورخاص کھپرو بلاک اور ڈگری سانگھڑ بلاک کے کاروبار شامل ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ اثاثہ جات رواں سال کے دسمبر مہینے تک فروخت ہونے کی امید ہے۔انہوں نے بتایا کہ کمپنی نے فی الوقت ملازمین اور حکومت پاکستان کو مطلع کردیا ہے۔جبکہ کسی کمپنی سے بات چیت بعد میں کی جائیگی۔

خلیج میکسیکو میں سمندر کی تہہ میں تیل کی تلاش کے دوران بیس اپریل کو ایک دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایک کنویں سے تیل کا رساؤ شروع ہوگیا تھا۔

خیال رہے کہ برٹش پیٹرولیم کمپنی کو خلیج میکسیکو میں تیل کے رساؤ کے بعد شدید تنقید کا سامنا رہا ہے اور تیل کے رساؤ کو بند کرنے اور متاثرہ علاقوں کی صفائی کرنے پر کمپنی کے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔امریکی صدر بارک اوباما نے بھی تیل کمپنی کو متنبہ کیا ہے کہ وہ تیل کے رساؤ کو جلد اور مکمل بند کرے۔

اسی بارے میں