صحت پر کم فیملی پلاننگ پر توجہ زیادہ

Image caption ’پانچ فیصد ہسپتالوں کی اپنی عمارت نہیں جبکہ آٹھ فیصد ہسپتال چاردیواری سے محروم ہیں‘

پاکستان میں ایک غیر سرکاری تحقیقاتی ادارے فافین کا کہنا ہے کہ حکومت کی زیادہ تر توجہ فیملی پلاننگ پر مرکوز ہے جبکہ صحت کے دیگر مسائل پر توجہ نہیں دی جارہی۔

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک کی جانب سے ملک بھر کے ایک سو سات ہسپتالوں کے مشاہدے کے بعد جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لوگ صرف فیملی پلاننگ کی سہولیات کے حوالے سے سو فیصد مطمئن نظر آتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاج معالجے کے لیے آنے والے نوے فیصد مریضوں نے فیس کی زیادہ وصولی کی شکایت کی جبکہ بیس فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں اور دیگر عملے کا رویہ ان کے ساتھ مناسب رویہ ہوتا ہے۔

یہ رپورٹ ضلع اور تحصیل ہسپتالوں کے سروے کے تحت بنائی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پانچ فیصد ہسپتالوں کی اپنی عمارت نہیں جبکہ آٹھ فیصد ہسپتال چاردیواری سے محروم ہیں۔

فافین کا کہنا ہے کہ چاروں صوبوں کے سولہ فیصد ہپستالوں میں صفائی کا انتظام نہیں، چھبیس فیصد تحصیل ہپستالوں میں مریضوں کے لیے پینے کے پانی تک کا بھی بندوست تک نہیں۔

پاکستان نے رواں مالی سال میں صحت کےشعبے میں سولہ ارب چورانوے کروڑ رپے مختص کیے ہیں۔

پاکستان اقتصادی سروے کے مطابق اس وقت گیارہ سو تراسی مریضوں کے لیے ایک ڈاکٹر، سولہ ہزار نو سو افراد کے لیے ایک دانتوں کا ڈاکٹر اور پندرہ سو بانوے افراد کے لیے ایک بیڈ دستیاب ہے۔

اس طرح پاکستان میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد ایک لاکھ انتالیس ہزار، دانتوں کے ڈاکٹروں کی تعداد نو ہزار آٹھ سو بائیس اور نرسوں کی تعداد انہتر ہزار کے قریب ہے۔

فافین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پندرہ فیصد ہسپتالوں میں آکسیجن کی سہولت نہیں اور پندرہ فیصد ہسپتالوں میں لیبر روم موجود نہیں۔

رپورٹ کے مطابق چوراسی فیصد ہسپتالوں میں مقررہ شدہ فیس سے زیادہ کی وصولی، اور سترہ فیصد ہسپتالوں میں دوائیں باہر سے لینے کی شکایت کی گئی۔

فافین کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کی اکثر انتطامیہ نے مالی اخراجات اور مقررہ عملے کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا۔ رپورٹ میں ہپستالوں میں سٹریچروں، طبی آلات، ویل چیئر اور سٹرلائیزر کی عدم دستیابی کی بھی نشاندھی کی گئی ہے۔