پادری اور بھائی کا کچہری میں قتل

ہتھکڑیاں

فیصل آباد میں توہین رسالت کے الزام میں گرفتار ایک مسیحی پادری اور ان کے بھائی کو پیر کے روز عدالت کے احاطے میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا جبکہ حملہ آور کی فائرنگ کی زد میں آکر پولیس کے ایک تفتیشی افسر زخمی ہوگئے۔

تھانہ سول لائنز کے سٹیشن ہاؤس آفیسر عامر وحید نے بی بی سی کو بتایا کہ بتیس سالہ پادری راشد ایمانوئل کو تین ہفتے اوران کے چھوٹے بھائی ساجد ایمانوئل کو دو ہفتے پہلےگرفتار کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں مسیحی بھائیوں کو ایک عدالت میں پیشی کے بعد ہتھکڑیاں لگا کر واپس لایا جارہا تھا۔

ضلعی کچہری کے برآمدے میں اچانک ان پر فائرنگ کردی گئی اور بھگدڑ میں حملہ آور فرار ہوگئے۔

ہمارے نامہ نگار علی سلمان نے بتایا کہ اقلتیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او ہارمنی فاؤنڈیشن کےڈائریکٹر عاطف جمیل نے بتایا کہ فائرنگ کی آواز سن کر جب وہ موقع پر پہنچے تو حملہ آور فرار ہوچکا تھا۔

ایس ایچ او عامر وحید کاکہنا ہے کہ فائرنگ کی زد میں آکر ان کا تفتیشی افسر محمد حسین بھی زخمی ہوا ہے جسے ہسپتال داخل کرا دیاگیا۔

دونوں مقتولین کی لاشیں الائیڈ ہسپتال کے مردہ خانے رکھوا دی گئی ہیں جہاں ان کےلواحقین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

مقتولین فیصل آباد کی مسیحی اکثریتی آبادی وارث پورہ کے رہائشی ہیں جہاں اس قتل کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

فیصل آباد کے ان دونوں مقتولین کے خلاف فیصل آباد کے نواحی علاقے سمندری کے ایک تاجر خرم شہزاد نے مبینہ توہین رسالت کا مقدمہ درج کرایا تھا۔

مدعی کے مطابق ان کے منشی رحمت اللہ کو فیصل آباد کے جنرل بس سٹینڈ پر کچھ پمفلٹ دیے گئے۔ انہوں نے کہا ان پمفلٹس پر درج توہین آمیز تحریر درج تھی۔

پولیس کے مطابق پمفلٹ پر راشد ایمانوئل اور ساجد ایمانوئل کے نام اور پتے موجود تھے جن کی بنیاد پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

این جی او کے ڈائریکٹر عاطف جمیل کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ذی ہوش شخص اس طرح کی تحریر پر اپنے نام پتے نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر ایک سازش کے تحت دونوں بھائیوں کو پھنسایا گیا ہے۔

راشد پاسٹر تھے جبکہ ان کے چھوٹے بھائی ساجد مقامی کالج میں ایم بی اے کے طالبعلم تھے۔

پاکستان میں توہین رسالت کا قانون فوجی حکمران جنرل ضیاءالحق کے دورمیں نافذ کیا گیا تھا۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ دوسوپچانوے کے تحت توہین رسالت کے جرم کی سزا موت ہے۔

توہین رسالت کے الزام کا سامنا کرنے والےدس کے قریب افراد کو عدالتی کارروائی مکمل ہونےسے پہلے قتل کیا جاچکا ہے جبکہ متعدد جان بچانے کے لیے جلاوطنی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کو متنازعہ قرار دیتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ عموماً اس کا غلط استعمال کیا جاتا ہے اور اس کا زیادہ تر نشانہ اقلیتیں بنتی ہیں۔

اسی بارے میں