انسداد دہشت گردی اتھارٹی کے چیئرمین مستعفی

Image caption اتھارٹی کے قیام کا مقصد ملک میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے پالیسی بنانا ہے

قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی کے چیئرمین طارق پرویز نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

اسٹیبلشمینٹ ڈویژن کے ذرائع نے مزکورہ چیئرمین کا استعفی موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔

استعفے میں انہوں نے ذاتی وجوہات کا ذکر کیا ہے جبکہ طارق پرویز کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اتھارٹی کے قیام سے لیکر اُن کے مستعفی ہونے تک ادارے میں کام کرنے کا ماحول پیدا نہیں کیا گیا۔

اس اتھارٹی کے قیام کا اعلان وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کیا تھا اوراس کے لیے چند لاکھ روپے رکھے گئے تھے۔ گُزشتہ مالی سال کے دوران اس اتھارٹی کے لیے تین کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی تھی۔

قیام کے وقت اس اتھارٹی میں چار ڈائریکٹرز، آٹھ ڈپٹی ڈائریکٹرز اور دیگر سٹاف کی بھرتیوں کی منظوری دی گئی تھی لیکن ابھی تک ان آسامیوں کو اخبارات میں مشتہر نہیں کیا گیا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اتھارٹی کے مرکزی دفتر کے لیے اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں جگہ بھی الاٹ کردی گئی تھی جس پر ابھی تعمیراتی کام شروع نہیں ہوا۔

قومی انسداد دہشت گردی کا دفتر وِزارت داخلہ کی عمارت کے ایک کمرے میں واقع ہے جس میں مستعفی ہونے والے چیئرمین طارق پرویز اور اُن کا تین رکنی عملہ بیٹھتا رہا ہے جس میں ٹیلی فون آپریٹر، ڈرائیور اورگارڈ شامل ہیں۔

ایسٹیبلشمینٹ ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ طارق پرویز کو تین سال کے معاہدے پر اس اتھارٹی کا چیئرمین بنایا گیا تھا۔ اب ضروری کارروائی کے بعد اُن کا استعفی وزیر اعظم کو بھجوایا جائے گا جو اس استعفے کو منظور کرنے کے مجاز ہیں۔

اس اتھارٹی کے قیام کا مقصد ملک میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے پالیسی بنانا اور شدت پسندی کے واقعات کی تحقیقات کرنے والی ٹیموں کو مختلف ہدایات دینا ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق طارق پرویز کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) سے بطور ڈائریکٹر جنرل ریٹائرمنٹ کے بعد قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی کا چیئرمین تعینات کیا گیا تھا۔مذکورہ اتھارٹی میں اپنی تعیناتی کے دوران انہوں نے مختلف ملکوں کا دورہ بھی کیا اور اُن پالیسیوں کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں جو انہوں نے دہشت گردی کے واقعات کے سدباب کے لیے اپنائی ہیں۔

اسی بارے میں