ہیڈلی: ’بھارتی الزامات میں شدت‘

فائل فوٹو، ڈیوڈ ہیڈلی
Image caption پاکستان کو عالمی سطح پر اپنے تاثر کو داغدار ہونے سے بچانے کے لیے بھارتی الزامات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا: خالد اقبال

پاکستان پر بھارت کے اس الزام میں حالیہ دنوں میں شدت آئی ہے کہ ممبئی حملوں میں غیر ریاستی عناصر ہی نہیں بلکہ ریاستی عناصر بھی ملوث تھے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

بھارت نے اس الزام کی بنیاد امریکہ میں گرفتار پاکستانی نژاد شہری داؤد گیلانی عرف ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کے مبینہ بیانات کو بنایا ہے۔

اگرچہ امریکہ نے جس معاہدے کے تحت بھارتی تفتیش کاروں کو ہیڈلی سے پوچھ گچھ کی اجازت دی گئی تھی اس کے تحت دونوں ملک اس بات کے پابند تھے کہ ہیڈلی کے بیانات کو منظر عام پر نہیں لایا جائے گا۔ لیکن بھارت نے ایک مہینے بعد ہی اس بات چیت کو بنیاد بنا کر پاکستان پر دباؤ بڑھانا شروع کردیا ہے۔

تو بظاہر پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی آرزو ایک شخص کے ہاتھوں یرغمال بن گئی ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان امن بات چیت بھی بظاہر ہیڈلی پرہونے والی تکرار کی نذر ہوگئی۔

Image caption اسلام آباد میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان امن بات چیت بھی بظاہر ہیڈلی پرغچا غاچ کی نذر ہوگئی

بھارت کا کہنا ہے کہ اس نے اس حوالے سے پاکستان کو شواہد بھی فراہم کیے ہیں۔

تاہم پاکستان بھارت کے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے اور اسے بھارتی اسٹیبلشمینٹ کی پاکستان مخالف پروپیگنڈہ مہم کا حصہ قرار دیتا ہے۔

بعض ملکی اور غیرملکی ذرائع ابلاغ نے یہ خبریں بھی شائع کی ہیں کہ بھارت کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں پاکستان نے دو سابق فوجی افسران سے تفتیش شروع کی ہے لیکن سرکاری سطح پر اب تک ان خبروں کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ملکوں کو ممبئی حملوں کے معاملے کو میڈیا پر بیان بازی اور الزامات کے تبادلے تک محدود رکھنا چاہیے یا سفارتی اور داخلی سطح پر تعاون کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔

پاکستان کے کم از کم دو سابق وزرائے خارجہ یہ سمجھتے ہیں کہ بھارتی رویہ اس تعاون میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ شرم الشیخ میں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ دہشت گردی کی بناء پر امن کے عمل کو پٹڑی سے اترنے نہیں دیں گے لیکن جب بھارتی وزیر خارجہ حال ہی میں پاکستان آئے تو انہوں نے اپنی بات چیت صرف دہشت گردی کے مسئلے پر ہی مرکوز رکھی اور باقی ایشوز پر زیادہ بات چیت نہیں ہوئی جس سے مذاکرات میں پیش رفت کی جو توقع کی جارہی تھی وہ نہیں ہوسکی۔

ہیڈلی سے جڑے بھارت کے تازہ مطالبے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’الزامات اور جوابی الزامات سے کوئی کام نہیں چلے گا، ڈائیلاگ میں یہ سب چیزیں آنی چاہیں۔ میڈیا کے ذریعے اس قسم کی بحث سے جو گڈ ولِ ہے جو ٹرسٹ ہے وہ مزید ضائع ہوگا۔‘

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سمجھتے ہیں کہ بھارت پاکستان کے موجودہ حالات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، اسی لیے ہیڈلی اس کے لیے اتنی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

’ہمارے دور میں حالات چونکہ بہتر تھے اس لیے انڈیا بھی ہمیں سنجیدگی سے لیتا تھا۔ ابھی مسئلہ یہ ہے کہ انڈیا خود کلیئر نہیں ہے کہ پاکستان میں کس سے بات کرے اور پاکستانی حکومت کے بارے میں روزانہ خبریں آجاتی ہیں کہ آج گئی کہ کل گئی تو ان چیزوں کو آپ کم اہم نہ سمجھیں۔ ہندوستان پاکستان کی اسی غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھانا چاہ رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں میں جو افراد پاکستان سے ملوث تھے ان کے خلاف پاکستان نے کارروائی کی ہے اور عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے جبکہ حکومت نے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کو گرفتار بھی کیا تھا لیکن عدالت نے انہیں رہا کر دیا تو عدالتی عمل میں حکومت کیسے مداخلت کرسکتی ہے۔

خالد اقبال پاکستانی فضائیہ کے سابقہ اعلیٰ افسر ہیں اور اب قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں سٹریٹیجک سٹڈیز پڑھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو عالمی سطح پر اپنے تاثر کو داغدار ہونے سے بچانے کے لیے بھارتی الزامات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

’پاکستان کو ان الزامات کے جواب میں شفاف تحقیقات کرنی چاہیے تاکہ پاکستان کی اپنی پوزیشن صاف ہوسکے اور اگر کوئی ایسی چیز سامنے آئے کہ پاکستان کے کچھ لوگ (ممبئی حملوں میں) ملوث ہیں تو ان کے خلاف کارروائی بھی کرنی چاہیے۔‘

ان کے بقول پاکستان کو بھی ہندوستان کی طرح امریکہ جا کر ہیڈلی سے تفتیش کرنی چاہیے تاکہ عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا جو تاثر خراب ہوا ہے وہ بہتر ہوسکے۔

اسی بارے میں