کراچی فائرنگ، چار افراد ہلاک

کراچی پولیس
Image caption شہر میں رینجرز کا گشت بڑھانے اور حساس علاقوں میں چوکیاں قائم کرنے کے دعوے کیے گئے ہیں

کراچی میں فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں مزید چار سیاسی کارکن ہلاک ہوگئے ہیں۔

گزشتہ شب گلستان جوہر کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک کار پر فائرنگ کی جس میں دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت فرقان بٹ اور ثاقب علی کے نام سے ہوئی ہے۔ زخمی فضل قادر بھی زخمی کی تاب نہ لاکر جناح ہسپتال میں دم توڑ گئے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری امین خٹک کا کہنا ہے کہ تینوں ان کے کارکن تھے۔

ایک دوسرے واقعے میں ملیر رفاہ عام سوسائٹی میں فائرنگ میں چالیس سالہ اشرف قصائی ہلاک ہوگئے۔ ان کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول پنجابی پختون اتحاد کے کارکن تھے۔ اس واقعے کے بعد مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی کی اور دو گاڑیوں کو نذر آتش کردیا۔

دوسری جانب اورنگی کے علاقے میں ٹاؤن ناظم کے دفتر کے قریب موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ میں مولانا اشرف ہارون ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے ان کا تعلق کالعدم سپاہ صحابہ سے ظاہر کیا تھا مگر سپاہ صحابہ کے ترجمان نے اس کی تردید کی ہے۔

تشدد اور فائرنگ کے واقعات میں ایک روز قبل ناظم آباد میں کالعدم سپاہ صحابہ اور اورنگی ٹاؤن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن کو ہلاک کیا گیا تھا۔

شہر میں ٹارگٹ کلنگز کے واقعات کی روک تھام اور اشتعال سے بچنے کے لیے حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری، اسلحہ لے کر چلنے اور جلسوں جلوسوں پر پابندی عائد ہے۔

شہر میں رینجرز کا گشت بڑھانے اور حساس علاقوں میں چوکیاں قائم کرنے کے دعوے کیے گئے ہیں مگر اس کے باوجود ان واقعات میں کمی نہیں آسکی ہے۔

دور روز قبل سندھ کے محکمہ داخلہ نے سندھ میں رینجرز کی موجودگی میں مزید ایک سا ل کی توسیع کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو سمری بھیجی تھی، جس میں رینجرز کی سندھ میں موجودگی کو اہم قرار دیا گیا ہے۔

رینجرز انیس سو اکانوے میں ایک سال کے لیے آئے تھے۔ صوبائی حکومت امن امان کا کہہ کر ہر سال اس کے قیام میں مزید ایک سال کی توسیع حاصل کرتی ہے۔

کراچی میں ہماری نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی اور پنجابی پختون اتحاد کے کارکنوں کی ہلاکت کے بعد شاھ فیصل کالونی،گلستان جوہر اور ابوالحسن اصفہانی روڈ پر کشیدگی پائی جاتی ہے، اور کچھ دکانیں بھی بند ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری امین خٹک کا کہنا ہے کہ شہر میں ایک مرتبہ پھر اچانک سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، وہ اس کی وجوہات سجھنے سے قاصر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے کارکنوں کی کوئی دشمنی وغیرہ نہیں تھی، مزید آج تدفین کے بعد صورتحال سامنے آئیگی۔

امین خٹک کے مطابق آج گورنر ہاؤس میں ناجائز تجاوزات کے معاملے پر اجلاس ہے جس میں وہ کارکنوں کی ہلاکتوں پر بھی بات کریں گے۔

اسی بارے میں